اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات ایک بار پھر التوا کا شکار، نیا آرڈیننس نافذ

اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات ایک بار پھر مؤخر ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے، کیونکہ صدر آصف علی زرداری نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 میں اہم ترامیم پر مشتمل آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے۔ یہ آرڈیننس ایسے وقت میں نافذ کیا گیا ہے جب وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات 15 فروری کو شیڈول تھے اور 125 یونین کونسلز سے ہزاروں امیدوار اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا چکے تھے۔

نئے آرڈیننس کے تحت میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کو ختم کر کے تین ٹاؤن کارپوریشنز قائم کی جا رہی ہیں، جبکہ حکومت کے مقرر کردہ ایڈمنسٹریٹر کو وسیع اختیارات اور غیر معینہ مدت تک عہدے پر برقرار رہنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس سے قبل ایڈمنسٹریٹر کی مدت زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک محدود تھی۔

آرڈیننس کے مطابق بلدیاتی اداروں کی عدم موجودگی میں ایڈمنسٹریٹر نئے انتخابات کے انعقاد تک اپنے عہدے پر برقرار رہ سکے گا اور اسے ٹیکس، فیس، ریٹ، کرایہ، ٹول ٹیکس اور سرچارج عائد کرنے کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق ان ترامیم کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے لیے مقررہ تاریخ پر انتخابات کرانا مشکل ہو سکتا ہے۔

وفاقی کابینہ نے حال ہی میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں 14 ترامیم کی منظوری دی تھی، جن میں اسلام آباد کو تین ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کرنا شامل ہے۔ ہر ٹاؤن کارپوریشن، ممکنہ حد تک، قومی اسمبلی کے ایک حلقے کے جغرافیائی حدود پر مشتمل ہو گی، کیونکہ اسلام آباد کی تین قومی اسمبلی نشستیں ہیں۔

دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مقامی رہنماؤں نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت شکست کے خوف سے انتخابات سے گریز کرے گی۔ تاہم مسلم لیگ (ن) کے سابق ڈپٹی میئر سید ذیشان علی نقوی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترامیم بہتر بلدیاتی نظام اور مؤثر سروس ڈیلیوری کے لیے لائی گئی ہیں، اور ان کی جماعت انتخابات میں پی ٹی آئی کو شکست دے گی۔

نئے قانون کے تحت ہر ٹاؤن کارپوریشن میں ایک میئر، دو ڈپٹی میئرز، چار خواتین اراکین، ایک کسان/مزدور، ایک تاجر، ایک نوجوان اور ایک غیر مسلم رکن شامل ہو گا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں بلدیاتی اداروں کی مدت فروری 2021 میں ختم ہو چکی ہے اور تب سے اب تک مختلف وجوہات کی بنا پر انتخابات مؤخر ہوتے رہے ہیں۔ اس تاخیر کے باعث تقریباً 25 لاکھ شہری پانی کی قلت، ٹوٹی سڑکوں اور دیگر بنیادی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن متعدد بار حلقہ بندیاں اور انتخابی شیڈول جاری کر چکا ہے، مگر ہر بار کسی نہ کسی وجہ سے انتخابات ملتوی کر دیے گئے۔

متعلقہ خبریں