ڈیوولوشن سمٹ 2026: مضبوط بلدیاتی نظام کے ذریعے پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو مستحکم بنانے پر زور

لاہور/اسلام آباد: پنجاب لوکل گورنمنٹ کاکس کے زیرِ اہتمام ڈیوولوشن سمٹ 2026 منگل کو اسلام آباد میں شروع ہوا، جس میں بااختیار اور آئینی تحفظ یافتہ بلدیاتی نظام کے ذریعے پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔

سمٹ میں اراکینِ پارلیمنٹ، وفاقی وزرا، آئینی ماہرین، ماہرینِ معیشت اور گورننس کے شعبے سے وابستہ افراد نے شرکت کی، جہاں پائیدار ڈیولوشن اور مؤثر کثیر سطحی طرزِ حکمرانی کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔

افتتاحی خطاب میں پنجاب لوکل گورنمنٹ کاکس کے کنوینر احمد اقبال چوہدری نے کہا کہ پاکستان کو وقتی اور جزوی اصلاحات سے آگے بڑھتے ہوئے ایک مضبوط آئینی، مالی اور انتظامی فریم ورک اپنانا ہوگا تاکہ بااختیار مقامی حکومتوں کو یقینی بنایا جا سکے۔

پہلا سیشن ’’پاکستان کے وفاقی نظام کا آئینی ڈھانچہ‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں فرحت اللہ بابر، سینیٹر فیصل سبزواری اور ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے اظہارِ خیال کیا۔ مقررین نے وفاقی نظام میں موجود ساختی رکاوٹوں اور صوبائی سطح سے نیچے آئینی طور پر تسلیم شدہ نظام کی عدم موجودگی کو اجاگر کیا۔

فرحت اللہ بابر نے ڈیولوشن پر مسلسل آئینی مکالمے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ فیصل سبزواری نے کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی دراصل عوامی خدمات کی فراہمی کا ایک قومی مسئلہ ہے، نہ کہ علاقائی یا نسلی معاملہ۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ڈیولوشن کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں مضبوط مفادات اور ناقص ترغیبی نظام حقیقی اختیارات کی منتقلی میں رکاوٹ بنتے رہے ہیں۔ انہوں نے ادارہ جاتی ترغیبات کو ازسرِنو ترتیب دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے مؤثر بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی کو قومی سلامتی کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ کمزور مقامی حکمرانی ریاستی صلاحیت کو نقصان پہنچاتی ہے۔ انہوں نے چین سمیت بین الاقوامی ماڈلز سے سیکھنے پر زور دیا۔

دوسرے سیشن ’’ڈیولوشن اور وسائل‘‘ میں اختیارات کی منتقلی کے لیے مالی اور ادارہ جاتی ماڈلز پر بحث کی گئی۔ احمد کنڈی نے کہا کہ چھوٹے صوبوں اور پنجاب کے لیے ڈیولوشن کے اثرات مختلف ہیں، اس لیے وسائل کی تقسیم کا تناظر کے مطابق جائزہ ضروری ہے۔

تیسرے سیشن میں ’’تین سطحی نظام کے لیے سول سروس اصلاحات‘‘ پر گفتگو ہوئی، جہاں ڈاکٹر عشرت حسین سمیت ماہرین نے ماضی کی اصلاحات کی ناکامیوں کا جائزہ لیتے ہوئے ایک جدید انتظامی ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیا۔

سابق میئر لاہور میاں عامر محمود نے کہا کہ پاکستان کے گورننس مسائل کے حل اور پائیدار ترقی کے لیے بامعنی ڈیولوشن ناگزیر ہے۔

اختتامی خطاب میں اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس مکالمے کو بروقت اور نہایت اہم قرار دیا۔

سمٹ کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہے گا، جہاں موضوعاتی گول میز مذاکرات کے ذریعے مجوزہ اسلام آباد ڈیولوشن چارٹر کے لیے عملی سفارشات مرتب کی جائیں گی۔

متعلقہ خبریں