راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ 80 فیصد مکمل، نظرثانی شدہ پی سی ون کی منظوری کے بعد تکمیل متوقع
راولپنڈی: اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ 80 فیصد سے زائد مکمل ہو چکا ہے، تاہم منصوبے کی تکمیل کی ڈیڈ لائن مارچ کے اختتام سے بڑھا کر اپریل کے آخر تک کر دی گئی ہے۔ تاخیر کی وجہ نظرثانی شدہ پی سی ون کی منظوری میں تاخیر بتائی جا رہی ہے، جس کے تحت منصوبے کی لاگت بڑھ کر 53 ارب روپے ہو گئی ہے اور یہ منظوری پنجاب پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ سے تاحال زیرِ التوا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ رنگ روڈ منصوبہ اپریل کے آخر یا مئی کے آغاز تک مکمل ہونے کا امکان ہے، تاہم تھالیان انٹرچینج پر کام باقی ہے، جو رنگ روڈ کو موٹروے سے منسلک کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ نظرثانی شدہ پی سی ون پنجاب پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے پاس زیرِ غور ہے اور امکان ہے کہ آئندہ ہفتے اجلاس میں بورڈ اپنے اعتراضات پر دیے گئے جوابات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے گا۔
افسر کے مطابق بورڈ نے منصوبے کی لاگت میں اضافے پر اعتراضات اٹھائے تھے، جن کے جواب میں پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ اور راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے تفصیلی وضاحتیں جمع کرا دی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ ہفتے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کی ایک تکنیکی ٹیم نے منصوبے کا دورہ کیا اور کام کا معائنہ کیا، جس کے بعد آئندہ اجلاس میں اس معاملے پر فیصلہ متوقع ہے۔
دریں اثنا، رنگ روڈ کے ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر اشفاق سلہری نے بتایا کہ منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے اور مجموعی طور پر 80 فیصد سے زائد پیش رفت ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق 90 فیصد اسٹرکچرل کام مکمل ہو چکا ہے، جس میں تمام پل، بشمول ریلوے پل، شامل ہیں، جبکہ 22 کلومیٹر کے حصے پر اسفالٹ کا کام بھی مکمل کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بانتھ سے تھالیان تک رنگ روڈ کی مجموعی لمبائی 38 کلومیٹر ہے اور چند باقی ماندہ اجزا کی تکمیل کے بعد منصوبہ اپریل کے آخر تک مکمل ہو سکتا ہے۔
اشفاق سلہری کے مطابق تھالیان کے مقام پر 5 ارب روپے کی لاگت سے نیا انٹرچینج تعمیر کیا جا رہا ہے، جہاں سے رنگ روڈ کو موٹروے سے جوڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ 18 ہزار سے زائد گاڑیاں رنگ روڈ کے ذریعے موٹروے میں داخل ہوں گی، اس لیے ٹریفک جام سے بچنے کے لیے ایک مناسب انٹرچینج ناگزیر تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پی سی ون کی منظوری کے بعد فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن فوری طور پر انٹرچینج پر کام شروع کر دے گی، کیونکہ یہ اسکیم بعد میں منصوبے میں شامل کی گئی اور نظرثانی شدہ پی سی ون کا حصہ ہے۔
انہوں نے منصوبے کی لاگت میں اضافے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ تھالیان انٹرچینج کی تعمیر، حالیہ سیلاب کے بعد موٹروے-5 کو پہنچنے والے نقصان سے حاصل ہونے والے اسباق کی روشنی میں فلڈ پروٹیکشن اقدامات، اور تعمیراتی مواد کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اس اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رنگ روڈ پر لائٹس کی خریداری مکمل ہو چکی ہے، جدید سائن بورڈز کی تیاری جاری ہے جبکہ شجرکاری کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
“یہ پہلا موقع ہے کہ رنگ روڈ کے اطراف چھ سے آٹھ فٹ قد کے درخت لگائے جا رہے ہیں تاکہ سڑک کو سرسبز اور خوبصورت بنایا جا سکے،” انہوں نے کہا۔