اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات میں بار بار تاخیر نچلی سطح کی جمہوریت پر حملہ ہے، رپورٹ
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات پانچ برسوں میں چھ مرتبہ مؤخر کیے جانے کو نچلی سطح کی جمہوریت پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے پتن-کوالیشن 38 (انجمنوں، کمیونٹی تنظیموں، مزدور یونینز اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا نیٹ ورک) نے اپنی تازہ تحقیقی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس عمل سے نہ صرف عوامی نمائندگی کا آئینی حق مجروح ہوا بلکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی انتظامیہ کے ماتحت ہونے کے بارے میں بھی سنگین سوالات اٹھے ہیں۔
جمعہ کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں جمہوری شرکت کو منظم انداز میں روکا گیا جس کی بھاری مالی اور سیاسی قیمت ادا کرنا پڑی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ منسوخ کیے گئے دو انتخابات میں مجموعی طور پر 7,866 امیدواروں نے 3 کروڑ 77 لاکھ 40 ہزار روپے بطور کاغذات نامزدگی فیس جمع کرائی، جبکہ قانونی چارہ جوئی اور انتخابی مہم پر بھی خطیر اخراجات کیے گئے۔ دونوں منسوخ انتخابات پر مجموعی تخمینہ شدہ اخراجات 54 کروڑ 43 لاکھ روپے تک پہنچ گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ صرف مالی نقصان نہیں بلکہ شہریوں کے آئینی حقِ نمائندگی کی بھی نفی ہے۔ سروے کے مطابق 70 فیصد امیدواروں اور 61 فیصد ووٹرز نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران آرڈیننس کے ذریعے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 میں کی گئی ترامیم کی مخالفت کی۔ 66 فیصد امیدواروں اور 49 فیصد ووٹرز نے میٹروپولیٹن کارپوریشن کے خاتمے کو مسترد کیا، جبکہ 50 فیصد سے زائد نے ٹاؤن کارپوریشنز کے لیے بالواسطہ انتخابات کی مخالفت کی۔
مزید یہ کہ 90 فیصد امیدواروں اور 60 فیصد ووٹرز نے مزدور/کسان نشستوں میں تاجروں اور ٹیکنوکریٹس کی شمولیت کو رد کیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ ترامیم اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر آرڈیننس کے ذریعے متعارف کرائی گئیں جسے عوام نے اختیارات کو مرکزیت دینے اور منتخب بلدیاتی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان ترامیم کی مخالفت کرنے والے 40 فیصد امیدوار حکمران جماعتوں سے تعلق رکھتے تھے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مزاحمت جماعتی حدود سے بالاتر ہے۔
انتخابات میں تاخیر کی وجوہات پر رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک تہائی سے زائد افراد کا خیال ہے کہ حکمران جماعتوں کو شکست کے خدشے کے باعث انتخابات مؤخر کیے گئے۔ تقریباً 40 فیصد نے بیوروکریسی کو ذمہ دار ٹھہرایا اور دعویٰ کیا کہ سرکاری افسران منتخب نمائندوں کے ماتحت کام کرنے سے گریزاں ہیں، جبکہ 10 فیصد سے زائد کا کہنا تھا کہ ارکانِ قومی اسمبلی ترقیاتی فنڈز اور سرپرستی کے نظام پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
رپورٹ میں سیاسی جماعتوں کے اندرونی ڈھانچے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور بتایا گیا کہ 71 فیصد عہدیداران کو پارٹی قیادت نے نامزد کیا جبکہ صرف 29 فیصد اندرونی انتخابات کے ذریعے منتخب ہوئے، جو مقامی سطح پر جمہوری خلا کی عکاسی کرتا ہے۔
سفارشات میں کہا گیا کہ منسوخ انتخابات کے امیدواروں کو الیکشن کمیشن فوری طور پر نامزدگی فیس واپس کرے اور حکومت مالی نقصانات کا ازالہ کرے۔ یونین کونسلز کے انتخابات ایک ہی دن کے بجائے مرحلہ وار، ہر دو سال بعد 20 فیصد کے تناسب سے کرانے کی تجویز بھی دی گئی تاکہ مقامی حکمرانی کا تسلسل برقرار رہے۔ رپورٹ میں متنازع ترامیم پر ریفرنڈم کرانے، بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ دینے اور سیاسی، مالی و انتظامی خودمختاری کی ضمانت فراہم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ تاخیر کا شکار جمہوریت دراصل انکارِ جمہوریت کے مترادف ہے۔