خیبر پختونخواہ میں گڈ گورننس روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ

سروس ڈیلیوری بہتر بنانے کے لیےوزیر اعلیٰ نے اہم ہدایات جاری کر دیں

پشاور: وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت صوبائی محکموں کی سروس ڈیلیوری سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سترہ محکموں کی مجموعی طور پر 327 انٹرونشنز اور درپیش رکاوٹوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک 47 انٹرونشنز مکمل جبکہ 139 آن ٹریک ہیں، اسی طرح 268 مائل اسٹونز میں سے 90 مکمل ہو چکے ہیں جبکہ تین آف ٹریک قرار دیے گئے۔

وزیرِاعلیٰ نے موسمِ بہار کی شجرکاری مہم کو صوبے کی تاریخ کی سب سے بڑی سرگرمی بنانے کی تیاری مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے سرکاری ملازمین، طلبہ اور سول سوسائٹی کی بھرپور شمولیت یقینی بنانے پر زور دیا۔ سرکاری دفاتر اور رہائش گاہوں میں پھل دار پودے لگانے کی بھی ہدایت کی گئی۔ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت منظوری کے لیے صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کا ہفتہ وار اجلاس منعقد کرنے، کمراٹ اور ہنگو سروزئی روڈ پر تعمیراتی کام تیز کرنے اور تاخیر کا شکار منصوبوں کے لیے غیر روایتی حل اپنانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔

اجلاس میں جنوبی اضلاع کے ڈی ایچ کیوز اور ریجنل ڈی ایچ کیوز میں میموگرافی سروسز شروع کرنے، سرکاری اسپتالوں میں کنٹریکٹ ڈاکٹروں کی بھرتی مقررہ مدت میں مکمل کرنے اور خراب و غیر فعال ٹیوب ویلز کو فوری فعال بنانے پر زور دیا گیا۔ تعلیم کے شعبے میں سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی سو فیصد حاضری یقینی بنانے جبکہ انسداد پولیو ٹیموں کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

ضم اضلاع کے لیے روشن قبائل پیکج کی تیاری اسی ماہ مکمل کرنے، احساس اپنا گھر پروگرام کو فاسٹ ٹریک پر رکھنے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری فوری شروع کرنے کی ہدایت دی گئی۔ وزیرِاعلیٰ نے واضح کیا کہ سروس ڈیلیوری کو عوامی توقعات کے مطابق بنانا حکومت کا حتمی مشن ہے اور گڈ گورننس روڈ میپ کے مڈ ٹرم اقدامات رواں سال جون تک مکمل کیے جائیں گے، بصورت دیگر کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں