کے پی حکومت نے این ایف سی فارمولے پر نظرثانی کا مطالبہ کر دیا، قانونی چارہ جوئی کی وارننگ دے دی
پشاور (نمائندہ خصوصی) خیبر پختونخوا حکومت نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے وسائل کی تقسیم کے موجودہ فارمولے پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو معاملہ عدالت میں لے جایا جا سکتا ہے۔
یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب خیبر پختونخوا نے قبائلی اضلاع (مرجڈ ڈسٹرکٹس) سے متعلق ذیلی گروپ کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا، جس میں دیگر صوبوں نے ان علاقوں کی آبادی کو نئے فارمولے میں شامل کرنے سے انکار کیا۔ اس شمولیت سے کے پی کا حصہ 14.62 فیصد سے بڑھ کر 18.96 فیصد تک جا سکتا تھا۔
ایک سرکاری اہلکار کے مطابق اگر این ایف سی اس معاملے کو حل کرنے میں ناکام رہا تو صوبہ خیبر پختونخوا عدالت سے رجوع کرے گا۔
صوبائی وزیر خزانہ مزمل اسلم نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 160(6) کے تحت 7ویں این ایف سی ایوارڈ میں اب تک کی جانے والی آٹھ سالانہ ترامیم آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں ہیں، اور مرجڈ اضلاع کو مسلسل ان کے حصے سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبہ اس عمل سے علیحدہ اس لیے ہوا کیونکہ دیگر فریق آئینی ضرورت کے تحت فارمولے کی درستگی اور مرجڈ اضلاع کے حصے کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہے تھے، جسے انہوں نے "ناروا صوبائیت” قرار دیا۔
مزمل اسلم کے مطابق خیبر پختونخوا نے تجویز دی ہے کہ عبوری طور پر وفاق تمام صوبوں کے لیے صوابدیدی گرانٹس کا نظام متعارف کرائے تاکہ اتفاق رائے تک ضروری مالیاتی امور متاثر نہ ہوں۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مرجڈ اضلاع کے لیے مختص وسائل میں تاخیر کے باعث اربوں روپے کی ترقیاتی اور سکیورٹی ضروریات پوری نہیں ہو سکیں، جبکہ یہ علاقے قومی سلامتی کے حوالے سے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ 2018 کی آئینی ترامیم کے بعد ان علاقوں کو مرکزی قومی دھارے میں لانے کا فیصلہ کیا گیا تھا، مگر این ایف سی فارمولے میں ان کی آبادی اور حصے کو شامل نہ کرنا آئینی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا این ایف سی کے عمل اور آئینی دفعات کے ساتھ مکمل طور پر وابستہ ہے، تاہم موجودہ نظام کو غیر آئینی حد تک غیر متوازن نہیں رہنے دیا جا سکتا۔
صوبائی حکومت نے وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر این ایف سی اجلاس طلب کیا جائے تاکہ فارمولے کی نظرثانی، آئینی تقاضوں سے متصادم شقوں کے خاتمے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔