نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی ڈاکٹر مہوش کے قتل کی شدید مذمت

اسلام آباد: نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (این سی ایس ڈبلیو) نے ڈاکٹر مہوش کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور ملک بھر میں خواتین کے قتل (فیمیسائیڈ) اور صنفی بنیادوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔

کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ڈاکٹر مہوش ایک باصلاحیت اور باوقار طبی پیشہ ور تھیں جن کی جان بے معنی تشدد کے ایک افسوسناک واقعے میں لی گئی۔ این سی ایس ڈبلیو نے سوگوار خاندان، ساتھیوں اور طبی برادری سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ ہولناک قتل کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ پاکستان میں فیمیسائیڈ اور صنفی بنیادوں پر تشدد میں تشویشناک اور مسلسل اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ خواتین اپنے گھروں، کام کی جگہوں اور عوامی مقامات پر محض اپنی خودمختاری اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کی وجہ سے جان لیوا خطرات کا سامنا کر رہی ہیں۔ ڈاکٹروں، اساتذہ اور صحافیوں سمیت پیشہ ور خواتین کا قتل خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے میں سنگین ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔

چیئرپرسن امِ لیلیٰ اظہر نے کہا کہ ڈاکٹر مہوش کا قتل اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان میں خواتین انتہائی باوقار پیشوں سے وابستہ ہونے کے باوجود محفوظ نہیں۔ ان کے مطابق فیمیسائیڈ محض ایک جرم نہیں بلکہ نظامی صنفی عدم مساوات اور استثنیٰ کا بدترین اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تشدد کو معمول نہیں بنایا جا سکتا اور ریاست کو خواتین کی مزید جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے۔

کمیشن نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری، شفاف اور صنفی حساسیت کے ساتھ تحقیقات مکمل کر کے ذمہ داران کی گرفتاری اور قانونی کارروائی یقینی بنائیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ فیمیسائیڈ کو ایک سنگین اور فوری نوعیت کے انسانی حقوق کے بحران کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے مربوط پالیسی اقدامات کیے جائیں۔

این سی ایس ڈبلیو نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ خواتین پیشہ ور افراد کے لیے تحفظ کے مؤثر نظام کو مضبوط بنایا جائے، جن میں کام کی جگہوں اور آمد و رفت کے دوران بہتر سیکیورٹی اقدامات شامل ہوں۔ پارلیمنٹ اور پالیسی سازوں سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ خواتین کے خلاف تشدد سے متعلق موجودہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور ان خلا کو دور کیا جائے جو مجرموں کو استثنیٰ فراہم کرتے ہیں۔

کمیشن نے فیمیسائیڈ کے مقدمات کا قومی ڈیٹا بیس بنانے، مؤثر نگرانی کے نظام قائم کرنے اور خواتین کے خلاف تشدد کو فروغ دینے والے نقصان دہ سماجی رویوں کے خلاف عوامی آگاہی مہمات چلانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ کمیشن خواتین کے آئینی حقوق، جن میں زندگی، وقار، مساوات اور تحفظ شامل ہیں، کے دفاع کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔

بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ ڈاکٹر مہوش کے اہلِ خانہ اور ہر اس خاتون کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے جس کی زندگی صنفی بنیادوں پر تشدد کے باعث چھین لی گئی۔ انصاف نہ صرف ہونا چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں