لائیو اسٹاک مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے اجرا سے دیہی معیشت جدید خطوط پر استوارہوگی: وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی

پشاور: محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ لائیو اسٹاک کا شعبہ دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور صوبائی حکومت اس اہم شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جامع ڈیجیٹل مینجمنٹ فریم ورک متعارف کرا رہی ہے۔

انہوں نے یہ بات پشاور میں وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ تقریب کے دوران لائیو اسٹاک مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایل ایم آئی ایس) کے باقاعدہ اجرا کے موقع پر کہی۔ وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق یہ اقدام ڈیجیٹل گورننس کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے جس کا مقصد لائیو اسٹاک سیکٹر میں خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنانا اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایل ایم آئی ایس انتظامی امور کو منظم بنانے، کارکردگی میں بہتری اور شفافیت کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق اس نظام سے مویشی پال حضرات کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا کیونکہ ویٹرنری خدمات تک رسائی بہتر ہوگی اور ادارہ جاتی احتساب کو تقویت ملے گی۔

انہوں نے اس اقدام کو لائیو اسٹاک کے شعبے میں اصلاحات کے نئے دور کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں عوامی خدمات کی فراہمی میں قابلِ پیمائش بہتری آئے گی۔

اس موقع پر سیکریٹری لائیو اسٹاک ظریف المعانی نے گزشتہ دو ماہ کی پیش رفت پر بریفنگ دی اور بتایا کہ ڈیجیٹلائزیشن کے اقدامات سے نگرانی کے نظام میں بہتری اور حکمرانی میں شفافیت کو فروغ ملا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ ڈیجیٹلائزیشن مہم کو صوبہ بھر میں مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے اور درست ڈیٹا اندراج کو یقینی بنایا جائے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ایل ایم آئی ایس کے تحت ایک ٹول فری لائیو اسٹاک ہیلپ لائن بھی قائم کی جائے گی جس کے ذریعے کسانوں کو ماہرین سے براہِ راست تکنیکی رہنمائی اور مشاورتی خدمات حاصل ہوں گی۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ اس نظام کے ذریعے لائیو اسٹاک خدمات کو ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے منسلک کر دیا گیا ہے، جو کسانوں، ویٹرنری اسپتالوں، موبائل ویٹرنری یونٹس، فیلڈ اسٹاف اور تحقیقی اداروں کو ایک مربوط ڈیجیٹل انٹرفیس کے تحت جوڑے گا۔

حکام کے مطابق ویکسینیشن، علاج اور مصنوعی نسل کشی کی خدمات کی ڈیجیٹل نگرانی کی جائے گی تاکہ کارکردگی اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔ صوبے میں پہلی بار مویشی پال افراد اور جانوروں کا جامع جیو ٹیگڈ ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا، جس میں نسل، عمر اور جنس کی بنیاد پر ڈیجیٹل ریکارڈ رکھا جائے گا جبکہ ادویات اور ویکسین کی خریداری اور استعمال کی بھی مانیٹرنگ کی جائے گی۔

بیان کے مطابق نئے فریم ورک کے تحت جانوروں کی شناخت کیو آر کوڈ کے ذریعے کی جائے گی اور بیماریوں کی بروقت نشاندہی اور فوری ردِعمل کے لیے ریئل ٹائم ڈیزیز سرویلنس نظام قائم کیا جائے گا، جس سے بیماریوں کی روک تھام اور کنٹرول کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔

متعلقہ خبریں