کراچی: سٹی کونسل کے اجلاس میں جمعرات کو کئی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کیے جانے کے بعد اچانک ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی اور ارکان کے درمیان تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد ہاتھاپائی کی نوبت آ گئی۔
اجلاس کے دوران اس وقت صورتحال کشیدہ ہوگئی جب جماعتِ اسلامی کے ایک رکن میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب سے سوال کرنے کے لیے پوڈیم کے سامنے آ کھڑے ہوئے اور موبائل فون سے ان کی ویڈیو بنانے لگے۔ اس عمل پر پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان نے سخت ردعمل ظاہر کیا جس کے بعد پیپلز پارٹی کے ایک رکن نے اپوزیشن کے رکن پر جھپٹ پڑے۔
دونوں جانب سے ارکان نے مداخلت کر کے معاملہ مزید بگڑنے سے روکنے کی کوشش کی جبکہ میئر مرتضیٰ وہاب بار بار ارکان کو اپنی نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت دیتے رہے۔ تاہم اجلاس کے اختتام تک وقفے وقفے سے ہنگامہ آرائی جاری رہی۔
ہنگامہ آرائی کے باوجود سٹی کونسل نے مجموعی طور پر 14 قراردادیں منظور کیں جن میں سے پانچ متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔
اجلاس کے آغاز میں کونسل نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والی بمباری کی مذمت کرتے ہوئے ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ ایرانی حکام کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے قافلے پر ہونے والے بم حملے میں جاں بحق ہوئے جبکہ ان کے اہل خانہ اور ایرانی فوج کے اعلیٰ حکام بھی حملوں میں مارے گئے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ دس روزہ حملوں کے دوران ایران کے 1700 مقامات پر بمباری کی گئی اور ہزاروں میزائل اور بم گرائے گئے۔ سٹی کونسل نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی طاقتوں سے اپیل کی کہ خطے میں مزید تباہی روکنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔
ایک اور قرارداد کے ذریعے گل پلازہ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا جس میں 80 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 1200 سے زیادہ دکانیں جل کر خاکستر ہوگئی تھیں۔ اجلاس میں جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی گئی۔
اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، اپوزیشن لیڈر ایڈووکیٹ سیف الدین، پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر محمد نعمان اور زیشان سواتی نے قراردادوں پر اظہار خیال کیا۔
کونسل نے دیگر متعدد انتظامی اور ترقیاتی قراردادیں بھی منظور کیں جن میں کے ایم سی کے مختلف محکموں کی اسامیوں کو اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ منتقل کرنا، عباسی شہید اسپتال میں سینئر اسپیچ تھراپسٹ کی اسامی کو گریڈ 17 سے 18 میں اپ گریڈ کرنا، کیٹل کالونی لانڈھی کے اطراف مویشیوں کی فروخت کے لیے نئی جگہ قائم کرنا اور کے ایم سی اسپتالوں کو صارف فیس کی مکمل رقم استعمال کرنے کی اجازت دینا شامل ہے۔
اس کے علاوہ ناظم آباد میں فائیو اسٹار چورنگی فلائی اوور کو جمہوری جدوجہد کے اعتراف میں شہید نجیب احمد کے نام سے منسوب کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ کے ایم سی کے تحت بیچ ویو کے مقام پر تین ایکڑ اراضی پر کراچی میوزیم کے قیام اور کورنگی ضلع کے ابراہیم حیدری کی اندرونی گلیوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے 10 کروڑ روپے کے منصوبے کی منظوری بھی دی گئی۔
اجلاس کے اختتام پر مزید کارروائی آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی گئی۔