کرپشن کیس میں گرفتار سندھ حکومت کے افسر ضمیر عباسی کا جسمانی ریمانڈ مزید دو روز کے لیے منظور

کراچی: سیشن عدالت نے منگل کو کرپشن کیس میں سندھ حکومت کے گریڈ 19 کے افسر ضمیر عباسی سے تفتیش کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو مزید دو روز کا جسمانی ریمانڈ دے دیا۔

ایف آئی اے کے کمرشل بینکنگ سرکل (سی بی سی) نے ضمیر عباسی کو 8.5 ارب روپے کے یلو لائن منصوبہ کرپشن کیس میں سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کرنے کے بعد گرفتار کیا تھا۔

ابتدائی ریمانڈ مکمل ہونے پر ایف آئی اے نے انہیں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (جنوبی) کی عدالت میں پیش کیا اور مبینہ ساتھیوں کو گرفتار کرنے کے لیے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست کی۔ عدالت نے تفتیشی افسر اور دفاعی وکیل کے دلائل سننے کے بعد ملزم کا جسمانی ریمانڈ مزید دو روز کے لیے منظور کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔

ضمیر عباسی کے خلاف ایف آئی اے کے کمرشل بینکنگ سرکل تھانے میں فارین ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 کی دفعات 4، 5، 8 اور 23 جبکہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 109 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق ایف آئی اے کو اطلاع ملی تھی کہ ملزم نے مبینہ طور پر صوبائی حکومت کے کھاتوں سے بڑی رقوم اپنے بیرون ملک بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیں۔ ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ اس مقصد کے لیے انہوں نے متحدہ عرب امارات، مالدیپ، ملائیشیا، سعودی عرب، سنگاپور، تھائی لینڈ، ترکیہ اور امریکا کے متعدد دورے کیے۔

ایجنسی نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ ضمیر عباسی کوآپریٹو سوسائٹی کے انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں میں ملوث رہے۔

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ 2012ء سے 2026ء کے دوران ملزم نے اپنے والد اور اہلیہ کے اکاؤنٹس سے بڑی رقوم کی 1,103 مالی لین دین بھی کیں۔

متعلقہ خبریں