خیبر پختونخوا کے نوجوان خوف کے ماحول میں برداشت کے خواہاں
اسلام آباد کے تھنک ٹینک پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی تازہ رپورٹ “ری تھنکنگ پیس: اے یوتھ پرسپیکٹو فرام کے پی” میں انکشافات
پشاور: خیبر پختونخوا کے نوجوان ایک جانب برداشت اور رواداری پر مبنی معاشرے کی شدید خواہش رکھتے ہیں، تو دوسری جانب انہیں ایک ایسے خوفناک ماحول کا سامنا ہے جہاں وہ اپنے مذہبی عقائد کا آزادانہ اظہار بھی غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ صوبے کے نوجوانوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ ریاست مذہبی اقلیتوں کے تحفظ میں ناکام ہو رہی ہے۔
یہ انکشافات اسلام آباد کے تھنک ٹینک پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی تازہ رپورٹ “ری تھنکنگ پیس: اے یوتھ پرسپیکٹو فرام کے پی” میں سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ یونیورسٹیوں اور مذہبی مدارس کے طلبہ کے ساتھ کیے گئے سروے اور ورکشاپس پر مبنی ہے، جس میں ایک نمایاں تضاد سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق:
- 80 فیصد سے زائد نوجوان قومی ہم آہنگی کے لیے بین المذاہب مکالمے کو ضروری سمجھتے ہیں،
- لیکن 77 فیصد نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ ردِعمل کے خوف سے اپنے مذہبی عقائد کھل کر بیان نہیں کر سکتے۔
- مزید یہ کہ 85 فیصد نوجوان سمجھتے ہیں کہ حکومت مذہبی بنیادوں پر امتیاز روکنے میں ناکام ہے۔
رپورٹ میں سوشل میڈیا کو بھی نوجوانوں کے ذہنوں کی تشکیل کا اہم میدان قرار دیا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق:
- 72 فیصد نوجوان معلومات کے لیے سوشل میڈیا پر انحصار کرتے ہیں،
- لیکن بہت سے نوجوان غلط معلومات، نفرت انگیزی اور آن لائن پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری میڈیا لٹریسی سے محروم ہیں، جس کے حقیقی دنیا میں پرتشدد نتائج سامنے آتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے نوجوان ایک زیادہ جامع، باعزت اور ہم آہنگ پاکستان بنانے کے لیے تیار ہیں، لیکن انہیں اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس کے لیے ریاست کو روزگار، بہتر تعلیم اور اظہارِ رائے کے بنیادی حق کے تحفظ پر سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔
اہم سفارشات
رپورٹ نے پالیسی سازوں کے لیے چند فوری اقدامات تجویز کیے ہیں:
- تعلیمی نصاب میں بنیادی اصلاحات،
- نصاب میں تنقیدی سوچ، رواداری اور باہمی احترام کو مرکزی حیثیت دینا،
- ملک گیر پیمانے پر ڈیجیٹل و میڈیا لٹریسی پروگرامز شروع کرنا،
- نوجوانوں کی قیادت میں بین المذاہب اور امن سے متعلق مستقل پلیٹ فارمز قائم کرنا۔
رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے نوجوان ملک کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔ اگر ان کی آواز سنی جائے اور ان میں سرمایہ کاری کی جائے تو وہ ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جہاں تنوع کو محض برداشت نہیں کیا جائے گا بلکہ فخر کے ساتھ قبول کیا جائے گا۔