خیبر پختونخوا حکومت نے نوجوانوں کو 5 ارب کے بلاسود قرضے دینے کا اعلان کر دیا
پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے نشتَر ہال میں ینگ لیڈرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کے بلاسود قرضہ اسکیم کے لیے مختص فنڈز کو 3 ارب روپے سے بڑھا کر 5 ارب روپے کر رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو بااختیار بنایا جا سکے۔ انہوں نے ینگ لیڈرز پارلیمنٹ کے لیے 20 لاکھ روپے گرانٹ دینے کا بھی اعلان کیا۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انتظامی انضمام تو 2018 میں ہو گیا تھا لیکن مالی انضمام تاحال مکمل نہیں ہو سکا جو آئین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت صوبے کے 4.758 کھرب روپے کی مقروض ہے جبکہ آئی ایم ایف کے مطابق وفاقی سطح پر 5.3 کھرب روپے کی کرپشن رپورٹ ہو چکی ہے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود تحریک انصاف تیسری مرتبہ صوبے میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر حکومت کر رہی ہے اور اگر واجبات ادا کر دیے جائیں تو عوامی خدمات کی فراہمی مزید بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے پنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہاں سیاسی آزادیوں کو محدود کیا جا رہا ہے اور سیاسی انتقام کی بدترین مثالیں قائم کی جا رہی ہیں۔
دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ مستقل امن کے لیے متفقہ، جامع اور واضح پالیسی ضروری ہے اور وقتی اقدامات یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ قومی اور صوبائی مسائل پر ہر فورم پر آواز بلند کریں۔
دوسری جانب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ کی زیر صدارت تھنڈیانی میں انٹیگریٹڈ ٹورازم زون کے کنسیشن معاہدے کی منظوری دے دی گئی۔ یہ منصوبہ ملک کا پہلا انٹیگریٹڈ ٹورازم زون ہوگا جو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت تیار کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق اس منصوبے میں کم از کم 23 ارب روپے آمدن کی صلاحیت موجود ہے اور اسے 400 کنال اراضی پر محیط ایک ماحول دوست سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دی جائے گا۔
حکام نے بتایا کہ صوبے میں دیگر انٹیگریٹڈ ٹورازم زونز میں گھنول مانسہرہ، منکیال سوات اور مدک لشٹ چترال شامل ہیں جن کی مجموعی لاگت 12.3 ارب روپے ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام منصوبے ماحولیاتی اصولوں کے مطابق اور بروقت مکمل کیے جائیں تاکہ سیاحت کو صوبے کی معاشی استحکام کا اہم ستون بنایا جا سکے۔