وزیراعلیٰ پنجاب کا کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کا دائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ

لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے اور اسے ایک اعلیٰ تحقیقاتی ادارہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

منگل کو جاری کردہ ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ جرائم کے خاتمے میں محکمے کی بہتر کارکردگی اور عوام کی مثبت رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ سی سی ڈی کے دائرہ کار کو مزید بڑھایا جائے گا اور اسے دنیا کی پانچ بڑی کرائم کنٹرول ایجنسیوں کے طرز پر ترقی دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ سی سی ڈی کو جدید فرانزک سہولیات، جدید تحقیقاتی مہارتوں، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر، جدید انٹیلی جنس نگرانی کے نظام اور جدید مشینری و آلات سے لیس کیا جائے تاکہ اسے پاکستان کے جدید ترین قانون نافذ کرنے والے اداروں میں شامل کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ جرائم پیشہ افراد کی ٹریکنگ اور نگرانی کے لیے بھی جدید آلات فراہم کیے جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ نے جدید سہولیات سے آراستہ سی سی ڈی ہیڈکوارٹر کے قیام کی منظوری بھی دے دی ہے۔ مزید یہ کہ پنجاب کے ہر ڈویژن، ضلع اور تحصیل میں سی سی ڈی کے دفاتر، پولیس اسٹیشنز اور رہائشی سہولیات قائم کی جائیں گی۔

اسی طرح سی سی ڈی کے اندر ایک جدید ریسرچ سینٹر قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جو جرائم کے خاتمے کے لیے نئی حکمت عملی تیار کرے گا۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ کو خواتین پر تیزاب پھینکنے والے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی ذمہ داری بھی سونپی ہے۔

مزید برآں عیدالفطر کے بعد صوبے بھر میں غیر قانونی اسلحے کے خلاف مہم شروع کرنے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سی سی ڈی کی کارروائیوں کے نتیجے میں پنجاب بھر میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں ڈکیتی کے واقعات میں 77 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ موبائل فون اور بیگ چھیننے کے واقعات میں 49 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

اسی طرح گاڑی چوری کے واقعات میں 17 فیصد، اقدام قتل میں 31 فیصد اور اغوا برائے تاوان کے کیسز میں 45 فیصد کمی آئی ہے۔

متعلقہ خبریں