کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف احتجاجی ریلی

کوئٹہ: جماعتِ اسلامی نے کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کے التوا کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاجی ریلی نکالی۔ ریلی کی قیادت جماعتِ اسلامی کوئٹہ کے ضلعی امیر عبدالنئیم رند نے کی۔

احتجاج میں شریک افراد نے حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے درج پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے کے خلاف نعرے بازی کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عبدالنئیم رند نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کا التوا عوام کے جمہوری حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولنگ سے محض دو دن قبل انتخابات ملتوی کرنا، جبکہ تیاریوں پر اربوں روپے خرچ ہو چکے ہوں، جمہوریت کا مذاق اڑانے کے برابر ہے۔

جماعتِ اسلامی کے رہنما نے واضح کیا کہ بلدیاتی انتخابات کے متبادل کے طور پر کوئی بھی نظام قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ کے لاکھوں شہریوں کے حقوق کا مذاق نہ اڑایا جائے، فوری طور پر نئی انتخابی تاریخ کا اعلان کیا جائے اور امیدواروں کی جانب سے اٹھائے گئے انتخابی اخراجات کی واپسی کو یقینی بنایا جائے۔

ریلی کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی کے صوبائی نائب امیر اور سیاسی کمیٹی کے سربراہ زاہد اختر بلوچ نے انتخابات کے التوا کو عوام دشمن اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی شیڈول کے اجرا اور پولنگ اسٹاف کی تربیت مکمل ہونے کے بعد بعض سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں نے اپنی یقینی شکست کے خوف سے عدالت سے رجوع کر کے انتخابات ملتوی کرائے۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ ایک بدقسمت شہر ہے جہاں طویل عرصے سے بلدیاتی انتخابات مسلسل تاخیر کا شکار رہے ہیں۔ 28 دسمبر کو متوقع انتخابات کے اعلان کے بعد عوام میں امید پیدا ہوئی تھی اور جماعتِ اسلامی نے عوام کے اصرار پر مخلص اور عوام دوست امیدواروں کو ٹکٹ جاری کیے اور بھرپور انتخابی مہم چلائی، جسے عوام کی زبردست حمایت حاصل رہی۔

زاہد اختر بلوچ کا کہنا تھا کہ جماعتِ اسلامی اقتدار میں آئے یا نہ آئے، وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے بلدیاتی امیدوار عبد المنان ہاشمی، ارشد یوسفزئی، عبدالرزاق بگٹی، میر نوید بلوچ، جاوید احمد خان اور مولانا عبد الحمید منصوری نے کہا کہ جماعتِ اسلامی ایک حقیقی جمہوری اور عوام دوست جماعت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جماعتِ اسلامی کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات میں کامیاب ہوئی تو شہر کے مسائل حل کیے جائیں گے، تاہم اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی میں دانستہ رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے صوبائی الیکشن کمشنر اور صوبائی حکومت کی نااہلی کے باعث بلدیاتی انتخابات ملتوی کیے جانے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس اقدام سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور صوبائی دارالحکومت کی صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔

متعلقہ خبریں