کراچی: میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے اتوار کو شارعِ فیصل پر اسٹریٹ لائٹس کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے 90 کروڑ روپے کے منصوبے کا افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے ماحول دوست اور کم لاگت توانائی کے ذریعے شہر کی بڑی شاہراہوں کو روشن کیا جائے گا اور سالانہ تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کے بجلی بلوں کی بچت ہوگی۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ سولر منصوبے کے تحت نصب کیے جانے والے پینلز کی تنصیب کے ساتھ ان کی دیکھ بھال اور آپریشن کی ذمہ داری بھی متعلقہ کمپنی کی ہوگی، جس کی پانچ سالہ وارنٹی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2026 ترقی کا سال ہوگا اور انتخابی مہم کے دوران عوام سے کیے گئے تمام وعدے پورے کیے جائیں گے۔
مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ شارعِ فیصل اور شاہراہِ ایران سمیت کراچی کی تین بڑی شاہراہوں پر سولر اسٹریٹ لائٹس نصب کی جاچکی ہیں جبکہ سر شاہ سلیمان روڈ، مائی کولاچی روڈ اور دیگر اہم سڑکوں کو بھی شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کے-الیکٹرک کی لوڈشیڈنگ کے باعث اسٹریٹ لائٹس بند رہتی تھیں، تاہم اب اس مسئلے کا عملی حل نکال لیا گیا ہے۔
میئر کراچی نے کہا کہ کیماڑی، اولڈ سٹی ایریا اور شہر کے دیگر علاقوں میں فلاحی منصوبوں پر کام جاری ہے، جبکہ شاہراہِ بھٹو، مرغی خانہ پل اور دیگر بڑے منصوبے تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیوم آباد سے کاتھور تک شاہراہِ بھٹو جلد ٹریفک کے لیے کھول دی جائے گی، جس سے نہ صرف کراچی بلکہ دیگر شہروں کو جانے والے مسافروں کو بھی سہولت ملے گی۔
درختوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوناکارس کے درخت ماحول اور انفراسٹرکچر کے لیے موزوں نہیں، اصل ضرورت مقامی درختوں کی شجرکاری ہے جو ماحول، مٹی اور انسانی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔
میئر کراچی نے کہا کہ شہر کے مسائل کا حل محض بیانات یا احتجاج میں نہیں بلکہ عملی کام، برداشت اور عوامی خدمت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نعروں کے بجائے عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے اور کراچی کے عوام کو بلاامتیاز سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔