کراچی: شہر کے قدیم علاقے رانچھوڑ لائن میں واقع صدی پرانی حسن علی ہوتی مارکیٹ کی تزئین و آرائش مکمل ہونے کے بعد سٹی میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ہفتے کے روز اس کا افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر مارکیٹ کے قیام کے 100 سال مکمل ہونے کا سنگِ میل بھی منایا گیا۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ حسن علی ہوتی مارکیٹ محض ایک تجارتی مرکز نہیں بلکہ کراچی کی تاریخی شناخت اور نوآبادیاتی دور کے شہری ورثے کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ مارکیٹ تجاوزات اور عدم توجہی کا شکار ہو گئی تھی، تاہم کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے اس قیمتی ورثے کے تحفظ اور بحالی کا بیڑا اٹھایا۔
میئر نے بتایا کہ تزئین و آرائش کے دوران مارکیٹ کے اصل طرزِ تعمیر اور تاریخی حسن کو برقرار رکھا گیا، تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات ہٹائی گئیں جبکہ تاجروں کی سہولت کے لیے جدید سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی مقامات کی بحالی پائیدار شہری ترقی کا اہم حصہ ہے اور اس سے نہ صرف شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملتا ہے۔
تقریب میں صوبائی وزیر ثقافت ذوالفقار شاہ، منتخب نمائندے، تاجر برادری، ہوتھی خاندان کے افراد اور کے ایم سی کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ میئر کراچی نے کہا کہ کراچی ایک کثیرالثقافتی شہر ہے جہاں مختلف مذاہب اور قومیتوں کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں اور تاریخی بازار اس ہم آہنگی کی عکاسی کرتے ہیں۔
بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے دیگر ترقیاتی و بحالی منصوبوں پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ڈینسو ہال اور فریئر ہال کی بحالی مکمل ہو چکی ہے، ایمپریس مارکیٹ پر کام جاری ہے، کے ایم سی بلڈنگ کی مرمت ہو رہی ہے جبکہ لیا مارکیٹ اور ماچی میانی مارکیٹ کی بحالی کے منصوبے بھی شروع کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رواں برس کراچی میں 46 ارب روپے کے ترقیاتی کام کیے جائیں گے، جن میں کے-فور، حب کینال سمیت بڑے آبی منصوبے شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں نئی بسیں بھی متعارف کرائی جا رہی ہیں اور آئندہ 18 ماہ میں کراچی میں نمایاں ترقی نظر آئے گی۔
صوبائی وزیر ثقافت نے اپنے خطاب میں حسن علی ہوتی مارکیٹ کی بحالی پر میئر کراچی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت تاریخی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔