کراچی میئر کی چار بڑی سڑکوں کی بحالی کے لیے 4.2 ارب روپے کے منصوبے کی منظوری

کراچی: کراچی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید، خوبصورت اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے شہر کی چار اہم شاہراہوں کی بحالی اور خوبصورتی کے لیے 4.2 ارب روپے کے جامع منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

کے ایم سی ہیڈ آفس میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے منصوبے کی منظوری دی، جس کے تحت راشد منہاس روڈ، ایس ایم توفیق روڈ، سر شاہ سلیمان روڈ اور پہلوان گوٹھ روڈ کی ازسرِنو تعمیر و بحالی کی جائے گی۔

حکام کے مطابق راشد منہاس روڈ پر 1.12 ارب روپے، ایس ایم توفیق روڈ پر 42 کروڑ 90 لاکھ روپے، سر شاہ سلیمان روڈ پر 57 کروڑ 40 لاکھ روپے جبکہ پہلوان گوٹھ روڈ پر 1.9 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔

کے ایم سی ترجمان نے بتایا کہ منصوبے کا مقصد پائیدار انفراسٹرکچر، بہتر ٹریفک مینجمنٹ اور سرسبز شہری ماحول کو فروغ دینا ہے تاکہ کراچی کو ایک جدید اور بین الاقوامی طرز کا شہر بنایا جا سکے۔ تمام شاہراہوں پر سیوریج کے دیرینہ مسائل حل کیے جائیں گے، گرین بیلٹس بنائی جائیں گی، لین مارکنگ اور ٹریفک دوست ڈیزائن متعارف کرائے جائیں گے۔

میئر کراچی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبوں کے ٹینڈرز میں تاخیر کے بغیر عمل شروع کیا جائے۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کے ایم سی کے فنانشل ایڈوائزر گلزار عبرو نے فنڈز کی تقسیم اور ترقیاتی اسکیموں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

اجلاس سے خطاب میں بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی فوری اور ہنگامی بنیادوں پر ترقی کا متقاضی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اور سندھ حکومت کراچی کی بحالی کے لیے کے ایم سی کو مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے اور 2026 میں شہر میں نمایاں اور پائیدار ترقی نظر آئے گی۔

دریں اثنا، میئر کراچی نے گلزارِ ہجری، اسکیم 33، صفورا ٹاؤن میں 10 کروڑ 40 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی رحیم بخش سومرو روڈ اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلوان گوٹھ روڈ کو متبادل راستے کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے تاکہ شارع فیصل پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

میئر نے بتایا کہ ناتھا خان فلائی اوور سے پہلوان گوٹھ تک ایک نئی سڑک کی منظوری بھی دی گئی ہے جس پر 8 ارب روپے لاگت آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہانگیر روڈ پر کام جلد شروع ہوگا، بلوچ کالونی ایکسپریس وے 31 جنوری تک مکمل ہو جائے گا جبکہ کریم آباد انڈرپاس فروری کے پہلے ہفتے میں ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ پر بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کی راہ میں حائل رکاوٹیں سندھ حکومت کے تعاون سے دور کر دی گئی ہیں اور ہدف ہے کہ یہ منصوبہ 31 جولائی تک مکمل کر لیا جائے تاکہ لاکھوں شہریوں کو ریلیف مل سکے۔

متعلقہ خبریں