کراچی: کئی روز سے بڑھتے عوامی دباؤ اور شدید ردعمل کے بعد سندھ حکومت نے جمعرات کو گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں ہولناک آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک حاضر سروس ہائی کورٹ جج کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، تاہم حکومت نے اپنی جانب سے غفلت کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
سندھ کے وزیرِ اطلاعات شرجیل انعام میمن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ وزیرِاعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے طویل اجلاس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں قائم کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے متفقہ طور پر واقعے کی عدالتی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا، جس میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع اور بھاری مالی نقصان ہوا۔
شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت کسی پر الزام تراشی کی سیاست نہیں کر رہی اور ان کے بقول سرکاری سطح پر کوئی غفلت نہیں ہوئی، تاہم اگر تحقیقات میں کسی قسم کی کوتاہی ثابت ہوئی تو اس کی ذمہ داری قبول کی جائے گی۔ انہوں نے ناقدین سے اپیل کی کہ وہ عدالتی کمیشن کی رپورٹ کا انتظار کریں، جو آگ لگنے کی وجوہات اور ذمہ داران کا تعین کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ کمشنر کراچی اور سٹی پولیس چیف پر مشتمل دو رکنی کمیٹی کی رپورٹ پہلے ہی جاری کی جا چکی ہے، جس کے مطابق ایک دکان میں موجود کم عمر بچے نے کھیلتے ہوئے ماچس جلائی اور بغیر بجھائے پھینک دی، جس سے آگ بھڑکی اور پورے گل پلازہ میں پھیل گئی۔
وزیرِ اطلاعات نے بتایا کہ فائر سیفٹی آڈٹس میں انکشاف ہوا تھا کہ گل پلازہ اور دیگر عمارتوں میں حفاظتی انتظامات ناکافی تھے، تاہم سول ڈیفنس حکام نے مؤثر کارروائی نہیں کی۔ اسی بنیاد پر سول ڈیفنس کے ڈائریکٹر اور جنوبی ضلع کے ایڈیشنل کنٹرولر کو معطل کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آگ بجھانے کے دوران فائر ٹینڈرز کو پانی کی فراہمی میں تاخیر ہوئی، جس پر کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے چیف انجینئر (بلک) اور ہائیڈرنٹس کے انچارج کو بھی معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی جائے گی۔
شرجیل میمن کے مطابق کمیٹی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ کے ایم سی فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 کے پاس اس نوعیت کے واقعے سے نمٹنے کے لیے مناسب آلات اور تربیت کا فقدان تھا، تاہم اس کے باوجود فائر فائٹرز نے بہادری سے کام کیا۔ انہوں نے فائر فائٹر فرقان شوکت کی شہادت کا بھی ذکر کیا جو آپریشن کے دوران جان کی بازی ہار گئے۔
دریں اثنا، سندھ حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کو باضابطہ طور پر خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ گل پلازہ آتشزدگی کے واقعے کی عدالتی تحقیقات کے لیے ایک حاضر سروس جج نامزد کیا جائے۔ خط میں شفافیت، احتساب اور ادارہ جاتی بہتری کو اس اقدام کا مقصد قرار دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ عدالتی انکوائری کا مقصد ذمہ داری کا تعین اور ضابطہ جاتی ناکامیوں کا جائزہ لینا ہے۔ حکومت نے ہائی کورٹ سے درخواست کی ہے کہ اس معاملے پر فوری کارروائی کی جائے۔