شہری حلقوں کا صحافتی آزادی اور غیر جانبداری برقرار رکھنے پر زور
کراچی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب صدیقی اور ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ہیڈ آفس میں لوکل گورنمنٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کے پہلے باقاعدہ دفتر کا افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر بلدیاتی امور کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں نے اسے اپنے دیرینہ مطالبے کی تکمیل قرار دیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ بلدیاتی رپورٹرز عرصہ دراز سے ایک باقاعدہ دفتر کے قیام کا مطالبہ کر رہے تھے، جو آج پورا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 17 فروری کا دن کے ایم سی کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ پہلی بار تاریخی عمارت میں بلدیاتی رپورٹرز ایسوسی ایشن کو دفتر فراہم کیا گیا ہے۔
میئر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہر میں آزاد اور ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کے لیے بلدیاتی قیادت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد نے بھی اس اقدام کو بلدیاتی نظام اور میڈیا کے درمیان بہتر روابط کی جانب مثبت پیش رفت قرار دیا۔
لوکل گورنمنٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے میئر کراچی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن بلدیاتی رپورٹرز کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ انہیں تاریخی کے ایم سی عمارت میں ایک خوبصورت اور باوقار دفتر میسر آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سہولت بلدیاتی امور کی مؤثر اور منظم کوریج میں مددگار ثابت ہوگی۔
تاہم اس پیش رفت پر سول سوسائٹی، میڈیا ماہرین اور بعض دیگر اسٹیک ہولڈرز نے محتاط ردِعمل دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری عمارت میں دفتر کے قیام سے صحافتی آزادی، تنقیدی رپورٹنگ اور احتسابی کردار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
ان حلقوں کا کہنا ہے کہ کے ایم سی اور میئر آفس سے متعلق اہم عوامی مسائل — جیسے شہری سہولیات، بجٹ کے استعمال، ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت اور کارکردگی — پر غیر جانبدار اور تحقیقی رپورٹنگ جمہوری معاشرے کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق سہولت کی فراہمی کو کسی بھی صورت میں ادارتی آزادی پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔
میڈیا تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلدیاتی اداروں اور صحافیوں کے درمیان پیشہ ورانہ تعلقات بہتر ہونا خوش آئند ہے، تاہم صحافتی اصولوں، تنقیدی سوالات اور عوامی مفاد کو ہر حال میں مقدم رکھا جانا ضروری ہے تاکہ شہریوں کا اعتماد برقرار رہے۔
اس موقع پر شہری حلقوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اقدام میڈیا اور بلدیاتی انتظامیہ کے درمیان شفاف اور ذمہ دارانہ روابط کو فروغ دے گا، جبکہ صحافتی معیار اور احتسابی روایت مزید مضبوط ہوگی۔