کراچی: سندھ اسمبلی نے ہفتہ کے روز متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم-پی) کی شدید مخالفت کے باوجود اکثریتی رائے سے ایک قرارداد منظور کر لی جس میں سندھ کو تقسیم کرنے کی کسی بھی سازش کی مذمت کرتے ہوئے کراچی کو صوبے کا لازمی اور ناقابلِ علیحدگی حصہ قرار دیا گیا۔
یہ قرارداد وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پیش کی جس کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جماعت اسلامی (جے آئی) کے ارکان نے حمایت کی، جبکہ ایم کیو ایم-پی کے ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ قرارداد پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی باتیں تاریخ، آئین اور جمہوری اصولوں کے خلاف ہیں۔ ان کے مطابق کراچی جغرافیائی، تاریخی اور جذباتی طور پر سندھ سے جدا نہیں ہو سکتا۔انہوں نے آئین کے آرٹیکل 239 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا کوئی اقدام ہوا تو فیصلہ بھی یہی اسمبلی کرے گی۔وزیراعلیٰ نے یاد دلایا کہ 1994 میں بھی سندھ اسمبلی اسی نوعیت کی قرارداد منظور کر چکی ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ تقسیم پیدا کرنے والی سیاست سے گریز کریں۔قرارداد میں سندھ کی تقسیم یا کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی کسی بھی کوشش کی مذمت کی گئی اور صوبائی حکومت کو ہدایت کی گئی کہ قرارداد صدر، وزیر اعظم، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کو بھی ارسال کی جائے۔
اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی (ایم کیو ایم-پی) نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کو تقسیم کرنے کی کوئی سازش نہیں ہو رہی اور یہ سب محض ایک ڈرامہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی صوبے کا دارالحکومت ہے اور خود پیپلز پارٹی نے شہر کو ملیر، کورنگی اور کیماڑی اضلاع بنا کر تقسیم کیا۔ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر طٰہٰ احمد نے کہا کہ قرارداد آئین سے متصادم ہے کیونکہ آئین میں نئے صوبے بنانے کا طریقہ کار موجود ہے۔ ان کے مطابق اس موضوع پر بات کرنا آئینی حق ہے اور اسے دبایا نہیں جا سکتا۔
پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر شبیر قریشی نے کہا کہ ان کی جماعت ماضی میں بھی سندھ کی تقسیم کے حق میں نہیں تھی اور آج بھی نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے کراچی کے عوام کے ساتھ ملازمتوں میں مبینہ امتیاز کی نشاندہی کی۔جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی لسانی تقسیم کی سیاست نہیں کرتی، تاہم کراچی کی ترقی پر توجہ دینا ضروری ہے اور کوٹہ سسٹم پر بھی نظرثانی ہونی چاہیے۔
صوبائی وزرا شرجیل انعام میمن اور جام خان شورو سمیت مختلف جماعتوں کے ارکان نے بھی قرارداد پر اظہار خیال کیا۔ بعد ازاں اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا۔