شہری سندھ کے مستقبل پر نئی سیاسی محاذ آرائی

راچی — متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی سینئر قیادت نے اندرونی اختلافات کی خبروں کے باوجود اتوار کو عارضی مرکز پر مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام کے خلاف منظور کی گئی قرارداد کو وفاق پر حملہ اور آئین کے منافی اقدام قرار دیا۔

پریس کانفرنس میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار، انیس قائمخانی، امین الحق اور فیصل سبزواری شریک تھے۔ اس سے قبل پارٹی رہنماؤں کا ایک اہم اجلاس بھی ہوا جس میں سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ گزشتہ روز پاکستان کی ایک صوبائی اسمبلی نے ایسی قرارداد منظور کی جو آئین کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی صوبے کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ آئین پاکستان کے منافی قرارداد منظور کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان، اس کے آئین، قانون اور ریاست کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 239 میں نئے صوبوں کے قیام کا طریقہ کار واضح طور پر موجود ہے۔ ایم کیو ایم کے مطالبات آئین کے خلاف نہیں بلکہ آئینی دائرے کے اندر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسائل کا حل دھمکیوں میں نہیں بلکہ مکالمے اور سیاسی بات چیتمیں ہے۔

ڈاکٹر صدیقی نے کہا کہ سندھ میں جب بھی شہری حقوق کی بات کی جاتی ہے تو آواز اٹھانے والوں کو غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2008 میں کراچی ترقی کرتا ہوا شہر تھا مگر گزشتہ 17 برسوں میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے اسے دنیا کے کم قابلِ رہائش شہروں میں شامل کر دیا۔

انہوں نے جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی میں قرارداد کی حمایت کر کے دونوں جماعتیں پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑی ہو گئیں۔ ان کے مطابق شفاف مردم شماری ہو تو الگ صوبے کا مطالبہ کہیں اور سے اٹھ سکتا ہے، کراچی سے نہیں۔

ایم کیو ایم رہنما نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ آئین پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو آئینی حقوق دیے جائیں۔

گزشتہ جمعہ سندھ اسمبلی میں ایک واقعہ کے دوران ایم کیو ایم کے ایک رکن نے ایوان میں کہا کہ وہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں سابق پی ایس پی گروپ سے تعلق رکھنے والے اراکین کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اس واقعہ نے پارٹی کے اندرونی اختلافات کی خبروں کو مزید تقویت دی۔

دوسری جانب ہفتہ کو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد سندھ اسمبلی نے منظور کی جس میں سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرتے ہوئے کراچی کو صوبے کا ناقابلِ تقسیم حصہ قرار دیا گیا۔

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ایم کیو ایم کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال وفاقی وزراء ہیں، اس لیے ان کے بیانات سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے۔

انہوں نے وفاقی حکومت سے وضاحت طلب کی کہ اس کے دو وزراء اور اتحادی جماعت سندھ حکومت کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا اور سازشوں میں کیوں مصروف ہیں۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ملک پہلے ہی سیاسی اور معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے اور ایسے حالات میں وفاق اور صوبوں کے درمیان تناؤ پیدا کرنا دانشمندی نہیں۔ ⚖️

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایم کیو ایم رہنما آئین کا درست مطالعہ کرتے تو وہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیانات نہ دیتے۔

متعلقہ خبریں