کراچی: لیاری ٹاؤن میں ایک ارب 44 کروڑ روپے کے مالی تنازعے نے سیاسی صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیا، جس کے نتیجے میں ٹاؤن چیئرمین ناصر کریم بلوچ کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔ ذرائع کے مطابق یہ استعفیٰ پارٹی قیادت کی ہدایت پر دیا گیا۔پارٹی کے فیصلے کے بعد وائس چیئرمین اقبال ہنگورو نے قائم مقام چیئرمین کے طور پر چارج سنبھال لیا۔ ان کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے فوراً بعد ٹاؤن کونسل کے بعض اراکین اور میونسپل کمشنر حماد این ڈی خان کی جانب سے انہیں مبارکباد دی گئی، جس سے اندرونی حلقوں میں اطمینان کی فضا دیکھنے میں آئی۔ذرائع کے مطابق گزشتہ چند ماہ سے ناصر کریم بلوچ اور ٹاؤن کونسل کے بعض اراکین کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر چکے تھے۔ ان اراکین کو میونسپل کمشنر حماد این ڈی خان کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اسی تناظر میں چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی جمع کرائی گئی تھی، تاہم پارٹی قیادت کی مداخلت کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب سوئی گیس حکام کی جانب سے روڈ کٹنگ کی مد میں ایک ارب 44 کروڑ روپے کی رقم لیاری ٹاؤن کو موصول ہوئی۔ کونسل اراکین کا مؤقف تھا کہ یہ خطیر رقم فوری طور پر لیاری میں ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جائے، جبکہ ناصر کریم بلوچ کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت پہلے ہی لیاری کی ترقی کے لیے ایک جامع پیکج کا اعلان کر چکی ہے، اس لیے اس رقم کے استعمال میں جلد بازی مناسب نہیں۔کونسل اراکین نے چیئرمین کی کارکردگی پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ترقیاتی کاموں میں سست روی کے باعث علاقے میں پارٹی کی مقبولیت متاثر ہو رہی ہے۔ بالآخر انہی دباؤ کے پیش نظر پارٹی قیادت نے ناصر کریم بلوچ کو مستعفی ہونے کی ہدایت کی، جس پر انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔سیاسی مبصرین کے مطابق لیاری ٹاؤن میں حالیہ پیش رفت مستقبل کی مقامی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، جبکہ نئے قائم مقام چیئرمین کے لیے فوری چیلنجز میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنا سرفہرست ہوگا۔