کراچی میں چار گاربیج ٹرانسفر اسٹیشنز اور جدید لینڈفل سائٹ اگست تک مکمل

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ کو جمعرات کے روز بریفنگ میں بتایا گیا کہ شہر میں چار گاربیج ٹرانسفر اسٹیشنز (جی ٹی ایس) اور ایک لینڈفل سائٹ کا انفراسٹرکچر اگست تک مکمل کر لیا جائے گا، جس کے بعد روزانہ سات ہزار ٹن تک ٹھوس کچرے کو مؤثر طریقے سے ٹھکانے لگانے کی صلاحیت حاصل ہو جائے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بتایا گیا کہ عالمی بینک کے تعاون سے جاری سالڈ ویسٹ ایمرجنسی اینڈ ایفیشنسی پراجیکٹ (سویپ) کے تحت شرافی گوٹھ، ڈنگا موڑ، امتیاز اور گٹر باغیچہ میں جی ٹی ایس کی تعمیر جاری ہے۔ جی ٹی ایس ایسی سہولت ہے جہاں مختلف علاقوں سے جمع کیا گیا کچرا عارضی طور پر محفوظ، علیحدہ اور بعد ازاں لینڈفل سائٹس تک منتقل کیا جاتا ہے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ فروری تک شرافی گوٹھ جی ٹی ایس پر 52 فیصد سے زائد فزیکل پیش رفت ہو چکی ہے جبکہ دیگر مقامات پر بھی کام مختلف مراحل میں جاری ہے اور متعدد تنصیبات اگست 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سویپ منصوبہ کراچی کو صاف، سرسبز اور رہنے کے قابل شہر بنانے کے وژن کا مرکزی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان وژن 2025 سے ہم آہنگ ہے جس میں شہری آلودگی میں کمی، جدید ویسٹ ٹرانسفر سسٹم اور پائیدار شہروں کے قیام پر زور دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایک مربوط اور جامع سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے پائیدار اور رہنے کے قابل ماحول کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے۔

اجلاس میں وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ، لوکل گورنمنٹ سیکریٹری وسیم شمشاد اور سویپ پراجیکٹ ڈائریکٹر انور شر نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ منصوبے کا بنیادی مقصد کراچی کے کاربن فٹ پرنٹ میں کمی لانا اور قومی و بین الاقوامی ماحولیاتی معیارات پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف کچرا جمع کرنے اور ٹھکانے لگانے کے نظام کو جدید بنائے گا بلکہ ڈمپ سائٹس پر حفاظتی اقدامات کو بہتر، ختم شدہ حصوں کی بحالی اور وہاں مقیم کچرا چننے والوں کے معیارِ زندگی اور روزگار کے مواقع میں بھی بہتری لائے گا۔

لینڈفل سائٹ سے متعلق اجلاس کو بتایا گیا کہ 485 ایکڑ پر محیط جام چاکرو سائٹ پر چار جدید سینیٹری انجینیئرڈ لینڈفلز کی تعمیر کا کام جاری ہے، جو شہر میں بڑھتے ہوئے کچرے کے مسئلے کے دیرپا حل کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں