کراچی (نمائندہ مقامی حکومت) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات سے عوام کو بچانے کے لیے 1.72 ارب روپے ماہانہ لاگت سے ٹارگٹڈ فیول سبسڈی پروگرام کا اعلان کر دیا۔
وزیراعلیٰ ہاؤس میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے اس پروگرام کے طریقہ کار اور عملدرآمد کی حکمت عملی کی منظوری دی، جس کا مقصد پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں کو قابل برداشت رکھنا اور ٹرانسپورٹ نظام کو فعال رکھنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی حالات کے باعث پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے سے عوام، خاص طور پر کم آمدنی والے طبقے، شدید متاثر ہو رہے ہیں، اس لیے یہ اقدام ان کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔
سبسڈی پیکیج کے تحت رجسٹرڈ موٹر سائیکل مالکان کو اپریل میں 2,000 روپے نقد معاونت دی جائے گی، جبکہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے رقم ڈیجیٹل نظام کے ذریعے براہ راست مستحقین کے اکاؤنٹس میں منتقل کی جائے گی۔
ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے بھی خصوصی سبسڈی رکھی گئی ہے، جس کے تحت بسوں، منی بسوں اور کوچز کو ماہانہ 2 لاکھ 40 ہزار روپے تک فراہم کیے جائیں گے، جبکہ ویگنوں، پک اپس اور مال بردار گاڑیوں کے لیے بھی مختلف شرح سے سبسڈی دی جائے گی، بشرطیکہ کرایوں میں اضافہ نہ کیا جائے۔
حکام کے مطابق یہ پروگرام ماہانہ تقریباً 5 کروڑ 70 لاکھ مسافروں کو فائدہ پہنچائے گا اور کرایوں میں استحکام لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ایکسائز دفاتر کو توسیعی اوقات میں کھلا رکھا جائے تاکہ رجسٹریشن کا عمل تیز کیا جا سکے، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ریلیف بروقت اور شفاف انداز میں عوام تک پہنچے۔
اجلاس میں صوبائی وزرا، چیف سیکریٹری اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔