ڈیجیٹل رسائی کو خواتین کا بااختیار ہونا قرار نہیں دیا جا سکتا: ماہرین

لاہور: ماہرین نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی خواتین کے لیے معلومات، خدمات اور معاشی مواقع تک رسائی میں اضافہ کر سکتی ہے، تاہم محض ڈیجیٹل سہولیات تک رسائی کو خواتین کا بااختیار ہونا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حقیقی بااختیاری کے لیے وسائل پر اختیار، فیصلہ سازی میں خودمختاری اور عملی کردار بھی ضروری ہے۔

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) میں جاری AAS-in-Asia کانفرنس کے دوسرے روز ’’ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور گلوبل ساؤتھ میں صنفی تحقیق کے علمیات‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیشن میں ماہرین نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے خواتین پر مختلف سماجی اور معاشی حالات میں مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا۔

سیشن میں علم بشریات، معاشیات اور کمپیوٹر سائنس سے وابستہ محققین نے شرکت کی۔ مقررین نے کہا کہ عالمی شمال میں تیار کیے جانے والے بیشتر ٹیکنالوجی ماڈلز اور تحقیقی فریم ورک پاکستان جیسے ممالک میں خواتین کے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کو متاثر کرنے والے سماجی رویوں، خاندانی ڈھانچے، عدم مساوات اور روزمرہ زندگی کی حقیقتوں کو پوری طرح مدنظر نہیں رکھتے۔

ماہرین نے رسائی اور اختیار کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ موبائل فون یا مالیاتی اکاؤنٹ تک رسائی کا مطلب یہ نہیں کہ خاتون اس وسیلے کی مالک بھی ہے یا اس پر مکمل اختیار رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشترکہ یا کسی دوسرے فرد سے ادھار لیے گئے موبائل فون استعمال کرنے والی خواتین کو پرائیویسی، گھر والوں کی نگرانی یا مالی فیصلوں پر اختیار ختم ہونے کے خدشات کے باعث مختلف ڈیجیٹل خدمات کے استعمال میں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سیشن میں اس بات پر بھی توجہ دلائی گئی کہ ڈیجیٹل ٹولز کی تیاری میں مقامی اور مخصوص نوعیت کے حفاظتی خدشات کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ ایک مقرر نے نیویگیشن ایپلی کیشنز کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بعض نظام بنیادی طور پر مختصر ترین راستہ تجویز کرتے ہیں، جبکہ پاکستان میں خواتین بعض اوقات ایسے راستوں کو ترجیح دیتی ہیں جو زیادہ مصروف، نمایاں یا روشن ہوں اور جہاں انہیں زیادہ تحفظ محسوس ہو۔

مقررین کے مطابق اسی طرح عام استعمال ہونے والے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھی اکثر ایسے خاندانی ماحول کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیے جاتے جہاں موبائل فون اور آن لائن اکاؤنٹس مشترکہ استعمال ہوتے یا گھر کے دیگر افراد کی نگرانی میں رہتے ہیں۔

سیشن میں مصنوعی ذہانت (AI) اور خواتین کی صحت پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ٹیکنالوجی ڈیزائن اور زچگی سے متعلق صحت کے لیے مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والی ڈاکٹر مریم مصطفیٰ نے کہا کہ ایسے ماحول میں AI نظام تیار کرنا ایک بڑا چیلنج ہے جہاں خواتین کی صحت سے متعلق ضروریات اور تجربات موجودہ ڈیٹا سیٹس میں مناسب طور پر شامل ہی نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ زبان اور ثقافتی پس منظر بھی AI پر مبنی صحت کی سہولیات کے لیے اہم چیلنج ہیں۔ ان کے مطابق بڑے لینگویج ماڈلز اکثر انگریزی میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں، جبکہ اردو میں خواتین صحت سے متعلق مسائل بیان کرتے ہوئے رسمی طبی اصطلاحات کے بجائے روزمرہ کے الفاظ اور مقامی اندازِ بیان استعمال کر سکتی ہیں۔

ڈاکٹر مریم کے مطابق محققین کو خواتین، دائیوں اور طبی ماہرین کے ساتھ مل کر ایسا ذخیرۂ الفاظ تیار کرنے کی ضرورت ہے جس سے ڈیجیٹل نظام خواتین کے صحت سے متعلق مسائل کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

پینل نے AI ٹولز کی کارکردگی جانچنے کے موجودہ طریقہ کار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صرف تکنیکی یا طبی درستگی کسی نظام کی کامیابی کا کافی پیمانہ نہیں۔ مخصوص برادریوں کے لیے تیار کیے جانے والے ٹولز کا جائزہ ان کے حقیقی صارفین سے بھی لیا جانا چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ فراہم کردہ معلومات قابلِ فہم، متعلقہ اور ان کے لیے واقعی مفید ہیں یا نہیں۔

مقررین نے تحقیق کے طریقہ کار پر بھی زور دیا اور خبردار کیا کہ تیز رفتار مقداری تحقیقی ماڈلز پر حد سے زیادہ انحصار بعض اوقات بااختیاری جیسے تصورات کے بارے میں پہلے سے طے شدہ مفروضے مسلط کر دیتا ہے اور مختلف برادریوں کے اندر موجود نمایاں فرق کو نظر انداز کر دیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق علم بشریات کا نقطۂ نظر زیادہ طویل المدت مشاہدے اور لوگوں کے ساتھ براہِ راست رابطے کا تقاضا کرتا ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ لوگ حقیقت میں ٹیکنالوجی کو کس طرح استعمال کرتے ہیں اور اس کے اثرات سے کیسے نمٹتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسی تحقیق سے ان گروہوں کے اندر موجود اختلافات بھی سامنے آ سکتے ہیں جنہیں عموماً ایک ہی زمرے میں شمار کیا جاتا ہے، مثلاً دیہی یا کم آمدنی والی خواتین۔

متعلقہ خبریں