امریکہ کے شہر سان انتونیو نے مارشل ریمزی کو نیا چیف انفارمیشن آفیسر مقرر کر دیا

سان انتونیو: امریکی شہر سان انتونیو نے مارشل ریمزی کو نیا چیف انفارمیشن آفیسر مقرر کر دیا ہے، جبکہ سبکدوش ہونے والے سی آئی او کریگ ہاپکنز نے اس تبدیلی کو عوامی خدمت، ذمہ داری اور ادارہ جاتی تسلسل کی روایت قرار دیا ہے۔

مارشل ریمزی نے اپنی تقرری کا اعلان سوشل میڈیا پلیٹ فارم لنکڈ اِن پر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس عہدے پر خدمات انجام دینے کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک چھٹی نسل کے ٹیکسان ہونے کے ناطے سان انتونیو کی خدمت ان کے لیے ذاتی وابستگی کی حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی ترجیح شہریوں، سرکاری ملازمین اور حکومتی اداروں کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانا ہوگی۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کا اصل مقصد عوامی خدمات کی بہتری اور شہری مسائل کے حل میں معاونت فراہم کرنا ہے۔

دوسری جانب سبکدوش ہونے والے سی آئی او کریگ ہاپکنز نے اپنے الوداعی پیغام میں کہا کہ قیادت کسی عہدے کی ملکیت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری اور امانت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری عہدے وقتی ہوتے ہیں اور اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اداروں کو بہتر انداز میں آگے بڑھایا جائے۔

کریگ ہاپکنز 2017 سے سان انتونیو کے اسمارٹ سٹی اور ٹیکنالوجی پروگرامز کی قیادت کر رہے تھے۔ ان کے دور میں شہر میں مختلف اداروں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ، اسمارٹ سٹی منصوبوں، پبلک ٹرانسپورٹ، توانائی، پانی اور شہری سہولیات کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا گیا۔

انہوں نے “SmartSA” پروگرام کے تحت شہری نقل و حمل، ماحول دوست اقدامات، انوویشن زونز اور مقامی شراکت داریوں کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

کریگ ہاپکنز نے اپنے پیغام کے اختتام پر نئے سی آئی او مارشل ریمزی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

“اب قیادت آپ کے سپرد ہے۔”

متعلقہ خبریں