اسلام آباد: تعلیم سے متعلق فیصلوں میں نوجوانوں کی نمائندگی کم، یونیسکو رپورٹ

اسلام آباد: نوجوانوں کو طاقت اور فیصلہ سازی کے عہدوں پر مناسب نمائندگی حاصل نہیں، جبکہ وہ ایسے پالیسی فیصلوں سے بھی اکثر باہر رکھے جاتے ہیں جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر انہی کو متاثر کرتے ہیں، جیسے عوامی قرضہ، ماحولیاتی تبدیلی اور بالخصوص تعلیم۔ یہ بات یونیسکو کی ایک نئی رپورٹ میں سامنے آئی ہے جو جمعہ کو عالمی یومِ تعلیم کے موقع پر جاری کی گئی۔

یونیسکو کی گلوبل ایجوکیشن مانیٹرنگ رپورٹ 2026 جس کا عنوان “لیڈ وِد یوتھ” ہے، میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ نوجوان اور طلبہ باضابطہ سیاست میں کم نمائندگی رکھتے ہیں، تاہم وہ سیاسی طور پر متحرک ہیں اور بہتر طرزِ حکمرانی اور سماجی انصاف کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نوجوان چاہتے ہیں کہ ان کی آواز سنی جائے اور ان معاملات میں بامعنی شمولیت دی جائے جو ان کے حال اور مستقبل سے جڑے ہیں، خاص طور پر تعلیم کے شعبے میں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تعلیم سے متعلق فیصلوں میں نوجوانوں اور طلبہ کی شمولیت کا مطالبہ گزشتہ تین دہائیوں میں فروغ پانے والی نوجوانوں کی خودمختاری کی عالمی تحریک کا حصہ ہے۔

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ نوجوانوں اور طلبہ کی مؤثر شمولیت کے لیے باضابطہ نظام، فیصلہ سازی کے فورمز میں نشست، نمائندہ اور جامع شرکت، ادارہ جاتی معاونت، وسائل کی فراہمی اور حکام کی جانب سے فیڈ بیک کو سنجیدگی سے لینے کا رویہ ضروری ہے۔

یونیسکو رپورٹ کے مطابق دنیا کے صرف ایک تہائی ممالک میں تعلیم سے متعلق معاملات میں نوجوانوں یا طلبہ کی شمولیت کے لیے باضابطہ ادارے موجود ہیں۔ تاہم اسکول سطح کے طلبہ میں شمولیت پر اطمینان کی شرح سب سے کم پائی گئی۔ سروے میں صرف 20 فیصد طلبہ نے کہا کہ وہ حکومت کے ساتھ حقیقی معنوں میں اشتراک کر رہے ہیں یا ان کی آرا کو اہمیت دی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جب طلبہ کو پالیسی اصلاحات میں باضابطہ کردار اور ذمہ داریاں دی جاتی ہیں تو اطمینان کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔

دوسری جانب عالمی یومِ تعلیم کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بڑی نوجوان آبادی رکھنے والی قوم کے طور پر یہ ضروری ہے کہ تعلیم تجسس، صلاحیت اور کردار کو فروغ دے اور نوجوانوں کو تنقیدی سوچ، اخلاقی عمل اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنائے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت اعلیٰ تعلیم اور ہنر مندی کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ تعلیمی نظام مضبوط ہو اور نوجوان بااختیار بن سکیں۔ عالمی یومِ تعلیم پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں تعلیم و تربیت سے وابستہ افراد، بشمول طلبہ، اساتذہ، والدین، ماہرین تعلیم اور محققین کی خدمات کو سراہتا ہے۔

عالمی یومِ تعلیم کے موقع پر یونیسکو اور وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے اشتراک سے اسلام آباد ماڈل کالج فار گرلز میں ایک تقریب منعقد کی گئی، جس کا موضوع “تعلیم کی تشکیل میں نوجوانوں کی طاقت” تھا۔ منتظمین کے مطابق اس فورم کا مقصد طلبہ کو تعلیم سے متعلق پالیسی مباحث میں شامل کرنا تھا۔

وزیرِ مملکت برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے تعلیم کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی بھی ملک کی سب سے مؤثر سرمایہ کاری ہے۔

پاکستان میں یونیسکو کے نمائندے فواد پاشایف نے کہا کہ تعلیمی ایمرجنسی کا حل صرف پالیسی سازی سے ممکن نہیں اور اس بات پر زور دیا کہ نوجوان صرف مستقبل ہی نہیں بلکہ حال بھی ہیں۔

ادھر عالمی بینک نے کہا ہے کہ وہ ترقی پذیر دنیا میں تعلیم کا سب سے بڑا مالی معاون ادارہ ہے، جس کے تحت 81 ممالک میں 26.4 ارب ڈالر کے منصوبے جاری ہیں اور اب تک 324 ملین طلبہ تعلیم سے متعلق پروگراموں سے مستفید ہو چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں