ڈی جی خان کے اسپتال میں واحد فعال ایکسرے یونٹ میں فلموں کی کمی
ڈیرہ غازی خان: ڈیرہ غازی خان کے علامہ اقبال ٹیچنگ اسپتال میں نصب تین ایکسرے مشینوں میں سے صرف ایک ہی کام کر رہی ہے، وہ بھی بغیر فلم کے، جس کی وجہ سے علاج کے لیے آنے والے غریب مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اسپتال کے ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی صورتحال اس وقت تقریباً مفلوج ہو چکی ہے کیونکہ زیادہ تر ایکسرے مشینیں خراب ہیں۔ صرف ایک مشین ٹراما سینٹر میں نصب ہے جو فی الحال عارضی طور پر کام کر رہی ہے۔
اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر منصور افغان کے مطابق ٹراما سینٹر میں چلنے والی مشین دراصل بنانے والی کمپنی کی جانب سے فراہم کی گئی عارضی مشین ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتال میں ایکسرے فلموں کی شدید کمی بھی ہے جس کے باعث مریضوں کے لواحقین کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ وہ ایکسرے کے نتائج مشین کی اسکرین سے اپنے موبائل فون کے ذریعے تصویر لے کر محفوظ کریں۔
مقامی افراد کے مطابق یہ صورتحال خاص طور پر غریب مریضوں کے لیے زیادہ مشکل ہے کیونکہ بہت سے لواحقین کے پاس موبائل فون بھی موجود نہیں ہوتے۔
ایک مقامی شخص کے مطابق یہ مسئلہ کم از کم گزشتہ تین ماہ سے جاری ہے۔ دوسری جانب میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے مسئلے کو تسلیم کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ماہ متعلقہ کمپنی کو خراب مشینوں کی فوری مرمت کے لیے باقاعدہ خط بھیجا گیا ہے۔
مریضوں اور ان کے لواحقین نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور اسپتال میں تشخیصی سہولیات کی بحالی کے احکامات جاری کریں۔
دریں اثنا ڈپٹی کمشنر عثمان خالد کا کہنا ہے کہ انہوں نے معاملے کا نوٹس لے لیا ہے اور اس کی تحقیقات کی جائیں گی۔ ان کے مطابق ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسپتال میں چھ پورٹیبل ایکسرے مشینیں بھی موجود ہیں۔
تاہم مریضوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی اسپتال کے کسی وارڈ میں پورٹیبل مشینوں کو استعمال ہوتے نہیں دیکھا۔ ایک مریض کے تیماردار نے بتایا کہ ایک مریض جو ہڈی کے مسئلے کے باعث چل نہیں سکتا تھا، اسے ایکسرے کے لیے اٹھا کر ٹراما سینٹر تک لے جانا پڑا۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق اسپتال انتظامیہ پہلے ہی خراب ایکسرے مشینوں کی مرمت کے لیے کمپنی کو خط لکھ چکی ہے اور جلد مسئلہ حل کر لیا جائے گا۔