پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی(PERA) کا نیا تفتیشی نظام متعارف

لاہور(نمائندہ مقامی حکومت ) پنجاب پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی نے پہلی مرتبہ تفتیش کا ایک نیا میکنزم متعارف کرایا ہے جس کے تحت ” پیرا” کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے ملزمان کو پولیس کی طرز پر ریمانڈ کے دوران تفتیش کی بجائے براہِ راست جوڈیشل کسٹڈی میں جیل بھیجا جائے گا اور ان کی تفتیش جیل کے اندر ہی کی جائے گی۔ مینوئل چالان مکمل طور پر ممنوع قرار،صرف ڈیجیٹل چالان ہوگا، خلاف ورزی کرنیوالے افسران کے خلاف کارروائی ہوگی۔موثر قانون سازی اورمضبوط پراسیکیوشن کے باعث پیرا نے اپنے خلاف ہائی کورٹ یا ماتحت عدالتوں میں کوئی مقدمہ نہیں ہارا۔ مزید تفصیلات کے مطابق اس اقدام کا مقصد شفاف اور مؤثر قانونی کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔پیرا نے قانون کے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام جرائم میں مینوئل چالان مکمل طور پر ممنوع قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تمام کارروائیاں صرف ای۔چالان سسٹم کے ذریعے کی جائیں گی۔ کسی بھی افسر کی جانب سے مینوئل چالان جاری کرنا جرم تصور ہوگا اور اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ مضبوط اور واضح قانون سازی کے باعث” پیرا” کے خلاف دائر کسی بھی مقدمے میں اب تک ہائی کورٹ یا ما تحت عدالتوں میں اتھارٹی کو شکست نہیں ہوئی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پیرا کے انفورسمنٹ اسٹیشنز کی جانب سے صوبہ بھر میں 304 مقدمات (ایف آئی آرز) درج کیے گئے جبکہ 233 چالان عدالتوں میں جمع کرائے گئے۔ اس دوران 210 ملزمان کو ضمانت ملی جبکہ 213 ملزمان کو عدالتوں سے ضمانت حاصل ہوئی۔ اعداد و شمار کے مطابق 113 ملزمان نے عدالتوں کے سامنے اعتراف جرم کیا جبکہ 217 ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا اور چار ملزمان کا جسمانی ریمانڈ دیا گیا۔ مجموعی طور پر اب تک ایک سزا ریکارڈ پر آئی ہے جبکہ کسی مقدمے میں بریت سامنے نہیں آئی۔انفورسمنٹ اسٹیشنز کی کارکردگی میں لاہور نشتر سرفہرست رہا جہاں 61 ایف آئی آرز درج ہوئیں۔ اس کے بعد لاہور سٹی اور لاہور ماڈل ٹاؤن میں 24،24 مقدمات درج کیے گئے جبکہ لاہور رائیونڈ میں 19 اور لاہور کینٹ میں 16 ایف آئی آرز درج ہوئیں۔ دیگر اضلاع میں چنیوٹ میں 12، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 10، بھکر میں 9 اور راولپنڈی سٹی میں 7 مقدمات درج کیے گئے۔اعداد و شمار کے مطابق اٹک، بہاولنگر، گجرات، حافظ آباد، جہلم، جھنگ، خانیوال، کوٹ ادو، لیہ، مری، مظفرگڑھ، نارووال، پاکپتن اور وہاڑی میں اس عرصے کے دوران کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ۔پیرا فورس ریکوزیشن ڈیش بورڈ کے مطابق 29 اگست 2025 سے اب تک مجموعی طور پر 30 ہزار 424 ریکوزیشنز موصول ہوئیں جن میں سے 23 ہزار 123 مکمل کی جاچکی ہیں۔ 528 درخواستوں پر اسکواڈ تعینات کیے گئے جبکہ 967 درخواستیں زیر التوا ہیں۔ اسی طرح 799 درخواستیں شیڈول تبدیل یا واپس لے لی گئیں جبکہ 5 ہزار 7 درخواستیں مدت ختم ہونے کے باعث غیر مؤثر ہوگئیں۔پنجاب حکومت مختلف محکموں جن میں محکمہ مال سمیت دیگر شامل ہیں کی طرف سے "پیرا” فورس کی کی گئی ریکوزیشن کی نوعیت کے اعتبار سے انسداد تجاوزات کے آپریشنز سب سے زیادہ رہے جن کی تعداد 17 ہزار 569 ہے۔ اس کے بعد پرائس کنٹرول آپریشنز 9 ہزار 813، اینٹی ہورڈنگ کارروائیاں 2 ہزار 353، بے دخلی کے کیسز 449 اور پبلک نیوسنس کے 237 کیسز سامنے آئے۔پیرا کے تحت صوبہ بھر میں 3 لاکھ 71 ہزار 553 انسپکشنز کی گئیں جن میں سے 2 لاکھ 19 ہزار 685 مکمل ہوچکی ہیں جبکہ 1 لاکھ 51 ہزار 867 تاحال نامکمل ہیں۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں 45 ہزار 489 چالان جاری کیے گئے جن کی مجموعی مالیت 16 کروڑ 57 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے۔ ان میں سے 34 ہزار 240 چالان ادا کیے جاچکے ہیں جن سے 11 کروڑ 98 لاکھ روپے سے زائد وصول ہوئے جبکہ 11 ہزار 241 چالان تاحال ادا نہیں ہوئے جن کی مالیت تقریباً 4 کروڑ 58 لاکھ روپے بنتی ہے۔انتظامی جرمانوں کے اعداد و شمار کے مطابق یکم اگست 2025 سے اب تک پرائس کنٹرول کے 19 ہزار 655، تجاوزات کے 25 ہزار 453 اور ذخیرہ اندوزی کے 230 چالان جاری کیے گئے۔ ان مدات میں مجموعی جرمانے پرائس کنٹرول میں 7 کروڑ 22 لاکھ، تجاوزات میں 8 کروڑ 79 لاکھ اور ذخیرہ اندوزی میں 43 لاکھ 93 ہزار روپے تک پہنچ گئے۔پیرا کے پرائس کنٹرول مانیٹرنگ کمیٹیوں نے دو مختلف ایپس کے ذریعے 18 لاکھ 60 ہزار سے زائد مارکیٹ انسپکشنز کیں۔ ان کارروائیوں میں 19 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد جرمانے عائد کیے گئے، 1680 دکانیں سیل کی گئیں اور 6 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 11 مقدمات درج کیے گئے۔انسداد تجاوزات مہم کے تحت 2 لاکھ 19 ہزار 493 چھاپے مارے گئے جن کے نتیجے میں 7 ہزار 539 کنال سے زائد سرکاری زمین واگزارکرائی گئی۔ اس دوران 1 لاکھ 3 ہزار 596 وارننگز جاری کی گئیں جبکہ 1 ہزار 55 افراد کو گرفتار اور 207 مقدمات درج کیے گئے۔ سب سے زیادہ کارروائیاں لاہور ڈویژن میں 53 ہزار 419، گوجرانوالہ میں 34 ہزار 817 اور ڈی جی خان میں 22 ہزار 526 ریکارڈ کی گئیں۔انسداد ذخیرہ اندوزی مہم میں 1 ہزار 907 چھاپے مارے گئے اور 15 ہزار 326 میٹرک ٹن اشیائے ضروریہ قبضے میں لی گئیں جن کی تخمینہ مالیت 57 کروڑ 52 لاکھ روپے بتائی گئی۔ ضبط شدہ اشیا میں سے 4 ہزار 4 میٹرک ٹن سے زائد نیلام کی گئیں جبکہ 5 افراد کو گرفتار اور 2 مقدمات درج کیے گئے۔ سب سے زیادہ کارروائیاں راولپنڈی ڈویژن میں 414، ڈی جی خان میں 269 اور گوجرانوالہ میں 254 ریکارڈ ہوئیں۔پبلک شکایات کے حوالے سے پیرا کو 8 ہزار 270 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 6 ہزار 317 حل کر دی گئیں۔ کارروائیوں کے دوران 3 ہزار 91 وارننگز جاری، 207 افراد گرفتار، 284 مقامات سیل اور 36 مقدمات درج کیے گئے۔ شکایات کی سب سے زیادہ تعداد لاہور میں 1 ہزار 663، ملتان میں 1 ہزار 564 اور ساہیوال میں 1 ہزار 475 ریکارڈ کی گئی۔پیٹرول پمپوں کی نگرانی کے لیے 9 مارچ 2026 کو 233 پمپوں کا معائنہ کیا گیا جس میں 1 لاکھ 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ مجموعی طور پر اس مہم کے دوران 3 ہزار 751 انسپکشنز کی گئیں جن میں 31 ذخیرہ اندوزی، 90 اوورچارجنگ اور 51 پمپوں کی جانب سے فروخت نہ کرنے کے کیسز سامنے آئے۔ اس دوران 33 لاکھ 47 ہزار روپے جرمانہ عائد، 23 پمپ سیل اور 17 افراد کو گرفتار کیا گیا۔انفراسٹرکچر کے حوالے سے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت فیز ون میں 85 انفورسمنٹ اسٹیشنز کی تعمیر اور اپ گریڈیشن کا منصوبہ جاری ہے جس میں 67 نئی عمارتیں اور 18 کی مرمت و بحالی شامل ہے۔ نئی تعمیرات میں مالی پیش رفت 11.37 فیصد جبکہ فزیکل پیش رفت 15.58 فیصد ہے۔ مرمت و بحالی کے منصوبوں میں مالی پیش رفت 18.37 فیصد اور فزیکل پیش رفت 31.17 فیصد ریکارڈ کی گئی۔فیز ٹو میں 59 نئے انفورسمنٹ اسٹیشنز کی منظوری دی گئی ہے جن میں سے 37 منصوبے ڈی ڈی ڈبلیو پی سے منظور، 33 کو انتظامی منظوری اور چار منصوبوں کے ٹینڈر جاری کیے جا چکے ہیں۔افرادی قوت کے حوالے سے فیز ون میں 53 سب انسپکٹر، 106 ہیڈ کانسٹیبل اور 2 ہزار 766 کانسٹیبل درکار تھے جن میں سے بڑی تعداد رپورٹ کر چکی ہے۔ فیز ٹو میں 98 سب انسپکٹر، 196 ہیڈ کانسٹیبل اور 3 ہزار 101 کانسٹیبل کی ضرورت ہے تاہم کئی اہلکاروں کی رپورٹنگ ابھی باقی ہے۔مجموعی طور پر 2 ہزار 790 اہلکار پیرا میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ 3 ہزار 85 نے ابھی جوائن نہیں کیا۔ اسی طرح 739 اہلکار واپس بھیجے گئے جبکہ 215 کو ملازمت سے برطرف کیا گیا۔ شامل اہلکاروں میں 1 ہزار سارجنٹس، 163 سینئر سارجنٹس اور 25 انویسٹی گیشن افسران شامل ہیں۔محکمانہ نظم و ضبط کے حوالے سے ڈائریکٹر پرسنل نے 79 محکمانہ کارروائیاں شروع کیں جن میں 51 زیر التوا ہیں۔ سزا کے طور پر 5 اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف، 4 کی تنخواہ میں کمی، 2 جرمانے، 4 کے سروس فوائد ضبط، ایک کی ترقی روکنے اور 10 کو وارننگ جاری کی گئی۔اسی طرح فیلڈ سطح پر ایس ڈی ای اوز نے 1 ہزار 377 محکمانہ کارروائیاں شروع کیں جن میں 298 جرمانے، 11 سرزنش، 6 انکریمنٹ روکنے، 16 سروس ضبط کرنے اور 794 وارننگز شامل ہیں جبکہ 145 کیسز تاحال زیر کارروائی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کسٹڈی میں تفتیش، ڈیجیٹل ای۔چالان سسٹم اور مضبوط قانونی ڈھانچے کے ذریعے صوبے بھر میں قانون کی مؤثر عملداری اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔

متعلقہ خبریں