لاہور میں پانی و سیوریج خدمات انسانی حقوق کے بنیادی معیار پر پوری نہ اترنے کا انکشاف
لاہور (نمائندہ مقامی حکومت) — ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) اور یورپی یونین کے اشتراک سے کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ لاہور میں پانی، سیوریج اور نکاسی آب کی فراہمی بنیادی انسانی حقوق کے تقاضوں پر پوری نہیں اتر رہی۔
“لاہور میں پانی اور صفائی تک رسائی میں شہری محرومی” کے عنوان سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان خدمات کی منصفانہ اور مساوی فراہمی میں سرکاری اداروں اور بیوروکریسی کی ناقص کارکردگی بڑی رکاوٹ ہے۔ مختلف محکمے غیر مربوط انداز میں کام کر رہے ہیں، جس سے نہ صرف وسائل کا ضیاع ہو رہا ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی متاثر ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ لاہور میں مؤثر بلدیاتی نظام کے فقدان کے باعث جوابدہی کا نظام کمزور ہو گیا ہے، جس سے شہری نمائندگی اور نگرانی کے ڈھانچے متاثر ہوئے ہیں۔
تحقیق کے مطابق تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی، بے ہنگم پھیلاؤ اور ناقص دیکھ بھال کے باعث پانی اور نکاسی آب کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں شہری سیلاب، آلودہ پانی اور محفوظ پانی و صفائی کی سہولیات تک محدود رسائی جیسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، جن کا زیادہ اثر غریب اور پسماندہ طبقات پر پڑتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لاہور میں سرکاری سطح پر محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی میں ناکامی کے باعث بوتل بند پانی پر انحصار بڑھ گیا ہے، جس سے معاشرے میں ایک طبقاتی تقسیم پیدا ہو گئی ہے جہاں صاف پانی تک رسائی مالی استطاعت سے مشروط ہو گئی ہے۔
مزید برآں، پانی کے ضیاع، ناقص شہری منصوبہ بندی اور زمین کے استعمال کے قواعد کو بھی مسائل کی بڑی وجوہات قرار دیا گیا ہے، جو زیر زمین پانی کی بحالی اور قدرتی نظام میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
تحقیق میں خواجہ سرا افراد اور معذور افراد کو درپیش مسائل کو بھی اجاگر کیا گیا، جنہیں عوامی مقامات پر بنیادی صفائی کی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ پانی اور صفائی کو بنیادی انسانی حق کے طور پر قانون سازی کے ذریعے تسلیم کیا جائے، غیر رسمی بستیوں میں سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دی جائے، پانی کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور شہری منصوبہ بندی کو ماحولیاتی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔
دوسری جانب واسا لاہور کے منیجنگ ڈائریکٹر غفران احمد نے رپورٹ کے بعض نکات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں پانی کے معیار اور نکاسی آب کے نظام میں بہتری لائی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بارشوں کے دوران شہری سیلاب میں کمی آئی ہے اور پرانے سیوریج نظام کی تبدیلی کا کام بھی جاری ہے۔