اسلام آباد میں کچی آبادیوں کے مکینوں کا سی ڈی اے کے خلاف احتجاج
اسلام آباد (نمائندہ مقامی حکومت) رمشا کالونی اور جی-7 شاپر کالونی کے مکینوں نے متوقع بے دخلی کے خلاف بدھ کے روز شدید احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ انہیں متبادل رہائش فراہم کیے بغیر علاقہ خالی کرنے کا حکم واپس لیا جائے۔
ایچ-9 رمشا کالونی کے مکینوں کی بڑی تعداد نے سی ڈی اے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کی جانب سے انہیں علاقہ خالی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، بصورت دیگر آپریشن کی دھمکی دی گئی ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ متبادل رہائش دیے بغیر بے دخلی کا حکم سراسر ناانصافی ہے۔
مظاہرین کے مطابق رمشا کالونی کو تقریباً 15 سال قبل خود سی ڈی اے نے قائم کیا تھا، جبکہ شاپر کالونی 2002-03 میں آباد ہوئی۔ ایک مظاہرین اور اقلیتی رہنما ولیم پرویز نے کہا کہ یہاں رہنے والے افراد کے پاس کوئی دوسرا متبادل نہیں اور وہ شہر میں محنت مزدوری کر کے گزارہ کرتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر سی ڈی اے ان علاقوں کو خالی کروانا چاہتا ہے تو قریبی علاقوں میں متبادل رہائش فراہم کی جائے تاکہ مکینوں کے روزگار اور زندگی متاثر نہ ہو۔
دوسری جانب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی ڈی اے کی جانب سے تقریباً 25 ہزار افراد پر مشتمل ان بستیوں کو خالی کرانے کی کوشش غیر منصفانہ اور غیر قانونی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے 2015 کے حکم کے تحت کچی آبادیوں کو تحفظ حاصل ہے، اس کے باوجود بے دخلی کے نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔
ایچ آر سی پی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جب تک متاثرہ افراد کی مکمل بحالی اور متبادل رہائش کا بندوبست نہیں کیا جاتا، اس وقت تک بے دخلی کا کوئی اقدام نہ کیا جائے۔
مکینوں کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے حالیہ دنوں میں اسلام آباد کی مختلف کچی آبادیوں میں آپریشن کر چکا ہے اور اب رمشا اور اکرم گل کالونی کے خلاف کارروائی کا خدشہ ہے، جس سے انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی آبادیاں سرکاری اداروں جیسے نادرا اور الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہیں، جبکہ بجلی اور گیس کی سہولیات بھی فراہم کی جا چکی ہیں، جو ان کی قانونی حیثیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
دوسری جانب سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ جی-7 شاپر کالونی غیر قانونی آبادی ہے اور گرین بیلٹس، پارکس اور نالوں کے کنارے قائم تجاوزات کے خلاف کارروائی پالیسی کے مطابق کی جا رہی ہے۔ حکام نے مزید کہا کہ اگر رمشا کالونی سے متعلق کوئی سرکاری معاہدہ موجود ہوا تو اس کا جائزہ لے کر اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔