راولپنڈی، لاہور میں ہر سال پانی زیر زمین 60 اور 30 فٹ گر رہا ہے ،مذاکرہ
اسلام آباد (نمائندہ مقامی حکومت ) پاکستان کے زیرِ زمین پانی کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں ، جس کی سب سے بڑی وجہ پانی کا غیر معمولی گھریلو، زرعی اور تجارتی استعمال ہے جس کے لئے قانون سازی نا گزیر ہے،، راولپنڈ ی، لاہور میں ہر سال پانی زیر زمین 60اور 30فٹ گر رہا ہے ، واٹر سیکورٹی سنگین مسئلہ ہے ، پانی کو قدرتی وسیلہ سمجھ کر ضائع کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ، ان خیا لات کا اظہار معروف آبی ماہر اور پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے سینئر مشیرنصیر میمن اور دیگر ماہرین نے پاکستان میں پانی کے وسائل کا انتظام“ کے موضوع پر ایس ڈی پی آئی کی خصوصی تقریب کے دوسرے مرحلے میں خطاب کر تے ہوئے کیا ۔ نصیر میمن نے کہا کہ انڈس بیسن کے زیرِ زمین ذخائر، جو پاکستان کے بیشتر علاقوں کا پانی فراہم کرتے ہیں،کوئٹہ میں پانی کی سطح 2000 میں تقریباً 50 میٹر تھی جو 2023 تک 150 میٹر سے زیادہ گر گئی؛ لاہور میں پانی کی سطح ہر سال اوسطاً 2.61 فٹ کم ہو رہی ہے؛ راولپنڈی میں 2013 سے پانی کی سطح تقریباً 30 فٹ نیچے گر گئی جبکہ کراچی میں روزانہ 1,200 ایم جی ڈی کی طلب کے مقابلے میں صرف 650 ایم جی ڈی پانی دستیاب ہے۔پنجاب میں زرعی ٹیوب ویلوں کی تعداد 1994 میں 334,000 سے بڑھ کر 2024 میں 1.2 ملین سے زیادہ ہو گئی جو زمین سے سالانہ 51 ایم اے ایف پانی نکالتی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ پانی کی حد سے زیادہ نکاسی کی وجہ سے زیرِ زمین پانی کی سطح زیادہ تر آبپاشی شدہ علاقوں میں 6 میٹر سے بھی نیچے جا چکی ہے۔انہوں نے پانی کے تحفظ کےلئے مختلف طریقے اپنانے کے علاوہ سیلابی نالوں، ویٹ لینڈز اور قدرتی گڑھوں کو پانی ذخیرہ کرنے کے لئے استعمال کرنے کی تجویز بھی دی تاکہ مستقبل میں پانی کے بحران سے بچا جا سکے۔قبل ازیں ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شفقت منیراحمد نے کہا کہ زیرِ زمین پانی کی کمی پاکستان کے عوام کےلئے سنگین مسئلہ ہے اور اسے قدرتی وسیلہ قرار دے کر ضائع کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔