لیڈی ولنگڈن اسپتال ویڈیو اسکینڈل، ایم ایس سمیت 11 افراد معطل

لاہور (نمائندہ مقامی حکومت) پنجاب حکومت نے لیڈی ولنگڈن اسپتال کے گائنی وارڈ میں پیش آنے والے ویڈیو اسکینڈل پر سخت ایکشن لیتے ہوئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس)، گائنی ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ، ایک خاتون میڈیکل آفیسر، پانچ پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹ ڈاکٹرز، دو نرسوں اور ایک اسپتال ملازم سمیت مجموعی طور پر 11 افراد کو معطل کر دیا ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق مذکورہ اہلکاروں کے خلاف یہ کارروائی دورانِ آپریشن ایک مریضہ کی ویڈیو بنانے اور اسے سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے الزام پر کی گئی۔ معطل کیے گئے تمام افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ محکموں میں رپورٹ کریں۔ اس سے قبل وزیراعلیٰ شکایتی سیل کی کارروائی کے بعد چار لیڈی ڈاکٹرز کو بھی معطل کیا جا چکا ہے۔

حکام کے مطابق ویڈیو ایک سرجری کے دوران بنائی گئی تھی جسے بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا، جس سے مریضوں کی پرائیویسی اور طبی عملے کے پیشہ ورانہ رویے پر سنگین سوالات اٹھے۔

صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ اسپتالوں میں معیاری طریقہ کار (SOPs) کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور غفلت سامنے آتے ہی فوری کارروائی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے اقدامات نہ صرف طبی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہیں بلکہ مریضوں کے وقار کو مجروح کرتے اور پیشہ ورانہ اصولوں کی نفی کرتے ہیں۔

وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ خاتون ڈاکٹرز اور عملہ سیزیرین آپریشن کے دوران جلدی مکمل کرنے کا مقابلہ کرتے ہوئے جشن منا رہے تھے۔ ویڈیو گائنی آپریشن تھیٹر میں بنائی گئی جہاں بیک وقت دو مریضاؤں کا آپریشن کیا جا رہا تھا۔

اس واقعے پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا جس کے بعد پنجاب حکومت نے نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کی۔ محکمہ صحت نے اس عمل کو طبی اخلاقیات، مریضوں کی عزت اور پیشہ ورانہ معیار کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ رویہ نہایت غیر پیشہ ورانہ اور نامناسب ہے، جو مریضوں کی حفاظت کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ طبی عملے پر عوام کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچاتا ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ اس معاملے کو سنگین غفلت اور غیر ذمہ داری تصور کرتے ہوئے مزید کارروائی بھی کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں