وفاقی آئینی عدالت نے قبل از وفات بیٹی کے ورثا کے حقوق بحال کر دئیے-

اسلام آباد:( نمائندہ مقامی حکومت) وفاقی آئینی عدالت نے قبل از وفات بیٹی کے ورثا کے حقوق بحال کر دیئے، جنھیں 68 برس تک ریونیو ریکارڈ میں سنگین کوتاہی کے باعث ان کے حق سے محروم رکھا گیا تھا ، عدالت نے قرار دیا کہ محض تکنیکی بنیادوں پر بنیادی حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے منگل کے روز زمینوں کی تقسیم کے ایک مقدمہ میں دہائیوں پر محیط ناانصافی کا ازالہ کرتے ہوئے سردار بیگم مرحومہ کے قانونی ورثا ء کے وراثتی حقوق بحال کر دیے ، جنہیں تقریبا 68 برس تک ریونیو ریکارڈ میں ایک سنگین کوتاہی کے باعث ان کے حق سے محروم رکھا گیا تھا،عدالت نے قراردیاہے کہ محض تکنیکی بنیادوں پر کسی کے بنیادی حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ،یاد رہے کہ یہ کیس حسن نواز(مرحوم)کے ورثاء بنام صوبہ پنجاب(بورڈ آف ریونیو)کے عنوان سے زیر سماعت تھا ،جس میں عدالت نے متفرق درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے سردار بیگم کے بیٹوں حق نواز، جاوید اقبال اور بیٹی شہناز ممتاز کو بھی مقدمہ میں فریق بننے کی اجازت دے دی۔

متعلقہ خبریں