حیدرآباد سیمینار میں بلدیاتی نظام کو بااختیار بنانے پر زور، آئینی تحفظ کی تجویز پر اختلافات

حیدرآباد: مقامی پریس کلب میں منعقدہ ایک سیمینار میں بلدیاتی نظام کو بااختیار بنانے اور بنیادی حقوق کے مسائل کے حل کے لیے اس کے کردار پر زور دیا گیا، تاہم اس حوالے سے آئینی تحفظ کی تجویز پر شرکا نے مختلف آرا کا اظہار کیا۔

سیمینار کا انعقاد اسد عمر کی ’بااختیار عوام‘ مہم کے تحت کیا گیا، جس کی صدارت اسد عمر نے کی۔ تقریب میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر سید زین شاہ، جئے سندھ محاذ (ریاض) کے چیئرمین ریاض علی چانڈیو، بیرسٹر حسنین مرزا اور سابق صوبائی وزیر عارف مصطفیٰ جتوئی سمیت دیگر نے شرکت کی۔

اسد عمر نے اپنے خطاب میں کہا کہ عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے اختیارات اسلام آباد یا راولپنڈی کے بجائے مقامی حکومتوں کے پاس ہونے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزیت کے بجائے مضبوط بلدیاتی نظام ہی عوام کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلدیاتی ادارے آئینی طور پر حکومت کا تیسرا درجہ ہیں مگر انہیں مکمل آئینی تحفظ حاصل نہیں۔

دیگر مقررین نے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی اختیارات میں اضافہ صوبوں کی خودمختاری اور شناخت کو متاثر نہیں کرنا چاہیے۔ بعض شرکا نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایسی تجاویز کے ذریعے صوبائی اختیارات کو کمزور کرنے یا انتظامی تبدیلیوں کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔

مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں ایک مضبوط اور مؤثر بلدیاتی نظام کی ضرورت طویل عرصے سے محسوس کی جا رہی ہے، تاہم اس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے اور آئینی تحفظ ناگزیر ہے۔

متعلقہ خبریں