کراچی میں مربوط بلدیاتی نظام کے لیے آئینی تحفظ ناگزیر قرار

کراچی میں منعقدہ ایک اہم مکالمے میں ماہرین، سیاستدانوں اور سماجی رہنماؤں نے شہر کے بڑھتے ہوئے شہری مسائل کے حل کے لیے ایک مضبوط، مربوط اور آئینی تحفظ یافتہ بلدیاتی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ ’’بول کراچی بول: ٹوٹی سڑکیں، ٹوٹا نظام‘‘ کے عنوان سے ہونے والے اس اجلاس میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور شہری گورننس کے موجودہ ڈھانچے پر سنجیدہ سوالات اٹھائے۔

معروف ماہرِ معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ کسی بھی شہر کی حقیقی شناخت چار بنیادی سہولیات سے ہوتی ہے جن میں چوبیس گھنٹے پانی کی فراہمی، نکاسیٔ آب کا مؤثر نظام، کچرے کی بروقت صفائی اور ایک فعال پبلک ٹرانسپورٹ شامل ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کراچی عملاً ایک شہر نہیں بلکہ درجنوں حصوں میں بٹا ہوا ہے کیونکہ مؤثر ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے باعث شہری ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک آسانی سے سفر نہیں کر سکتے، جس سے معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

انہوں نے آئین میں موجود آرٹیکل 140-A کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں صرف بلدیاتی نظام کے قیام کا ذکر ہے، مگر اس کی ساخت، اختیارات، ذمہ داریوں اور انتخابات کے طریقہ کار سے متعلق کوئی واضح رہنمائی موجود نہیں، جس کے باعث مقامی حکومتیں کمزور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مربوط بلدیاتی نظام کے لیے ضروری ہے کہ آئین میں واضح شقیں شامل کی جائیں، جیسے وفاق اور صوبوں کے لیے موجود ہیں۔

ڈاکٹر بنگالی نے اس امر پر بھی زور دیا کہ کراچی کے مسائل کو صوبائی یا لسانی تقسیم کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ پورے صوبے کے شہریوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جائے۔ ان کے مطابق مضبوط بلدیاتی نظام صرف کراچی ہی نہیں بلکہ لاڑکانہ جیسے دیگر شہروں کے مسائل بھی حل کر سکتا ہے۔

سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کراچی کی موجودہ صورتحال دراصل آئینی اور انتظامی ڈھانچے کا نتیجہ ہے، جہاں اختیارات کی تقسیم نے شہر کو نظرانداز کرنے کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک آئینی ڈھانچہ تبدیل نہیں ہوگا، صرف چہروں کی تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے بلدیاتی اداروں کو ٹیکس عائد کرنے کے اختیارات دینے کی بھی حمایت کی تاکہ شہر اپنے وسائل خود پیدا کر سکیں۔

انہوں نے پانی کے بحران کے حل کے لیے مہنگے منصوبوں کے بجائے سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے (ڈی سیلینیشن) جیسے متبادل حل تجویز کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے شہروں کو وفاقی فنڈز پر انحصار کرنے کے بجائے خود کفیل بننا چاہیے۔

وکیل اور سماجی کارکن جبران ناصر نے متوسط طبقے کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طبقہ اب اجتماعی مفاد کے بجائے نجی سہولیات پر انحصار کر رہا ہے، جس سے عوامی ادارے مزید کمزور ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزدور اور طلبہ یونینز کی عدم موجودگی کو بھی ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا، جس کے باعث عوام کی اجتماعی آواز کمزور پڑ گئی ہے۔

اجلاس کے میزبان تنظیم کے صدر ناظم حاجی نے کہا کہ کراچی کو پانی، ٹرانسپورٹ، صفائی، رہائش اور سکیورٹی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، اور ان مسائل کا بنیادی سبب اختیارات کا بکھرا ہوا نظام ہے۔ ان کے مطابق جب ذمہ داریاں مختلف اداروں میں تقسیم ہوں تو جوابدہی ختم ہو جاتی ہے اور اس کا خمیازہ شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کراچی سمیت پاکستان کے بڑے شہروں کے مسائل کا پائیدار حل ایک ایسے بلدیاتی نظام میں ہے جو بااختیار، مربوط اور آئینی تحفظ کا حامل ہو، تاکہ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی مؤثر اور جوابدہ طریقے سے ممکن بنائی جا سکے۔

متعلقہ خبریں