بااختیار بلدیاتی نظام وقت کی اہم ضرورت قرار، کراچی میں کثیر الجماعتی سیمینار
کراچی میں “بااختیار عوام” پلیٹ فارم کے زیر اہتمام منعقدہ ایک کثیر الجماعتی سیمینار میں سیاسی رہنماؤں، اراکین اسمبلی اور سول سوسائٹی نمائندوں نے مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مؤثر عوامی خدمات اور مضبوط جمہوریت صرف اسی صورت ممکن ہے جب اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں۔
"آرٹیکل 140 ۱ے کا آئینی مستقبل اور بااختیار بلدیاتی حکومتیں” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں سابق وفاقی اسد عمر، فاروق ستار، امین الحق، فردوس شمیم نقوی اور جماعت اسلامی کے رہنما ایڈووکیٹ سیف الدین، جی ڈی اے کے حسنین مرزا، سردار رحیم، بلال غفار، سدرہ عمران اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ پاکستان کو ایک نئے “چارٹر آف ڈیموکریسی” کی ضرورت ہے جو بلدیاتی حکومتوں کو آئینی، انتظامی اور مالی تحفظ فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک کو اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں سے چلانے کی کوششوں نے انتظامی مسائل اور عوامی محرومیوں میں اضافہ کیا ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ بلدیاتی حکومتوں کو قومی مالیاتی کمیشن (NFC) میں تیسرے آئینی درجے کے طور پر تسلیم کیا جائے تاکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ منتخب بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ بھی دیا جانا چاہیے تاکہ صوبائی حکومتیں سیاسی بنیادوں پر انہیں تحلیل نہ کر سکیں۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کا مقصد اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا تھا، تاہم اختیارات صوبائی حکومتوں میں مزید مرتکز ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں مضبوط بلدیاتی ادارے ہی مؤثر طرز حکمرانی کی بنیاد ہوتے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر کیلئے مالی اور انتظامی طور پر مضبوط بلدیاتی نظام ناگزیر ہے تاکہ شہری مسائل مقامی سطح پر حل ہو سکیں۔
جماعت اسلامی کے ایڈووکیٹ سیف الدین نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 140-A میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی واضح تشریح موجود نہیں، جس کے باعث شہری اداروں کو صوبائی حکومت کے ماتحت کر کے بلدیاتی نظام کو کمزور کیا گیا۔
جی ڈی اے رہنما حسنین مرزا نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی اور ضلعی مالیاتی کمیشن مؤثر انداز میں فعال نہیں ہو سکے، جبکہ قانونی خلا حکمران جماعتوں کو بلدیاتی اداروں پر غیر ضروری کنٹرول برقرار رکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
سیمینار کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی مسائل کے حل، شفاف طرز حکمرانی اور جمہوری استحکام کیلئے بااختیار بلدیاتی نظام ناگزیر ہے۔