خیبر پختونخوا میں بلدیاتی نظام کی ضلعی سطح بحال کرنے کی تجویز
پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں بلدیاتی نظام کی ضلعی سطح کو دوبارہ بحال کرنے کی تجویز پر کام شروع کر دیا ہے، جسے 2019 میں ختم کر دیا گیا تھا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق بلدیات کے محکمے نے خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں ترامیم کی تجویز تیار کر کے محکمہ قانون کو بھجوا دی ہے تاکہ اس کا قانونی جائزہ لیا جا سکے۔ اس حوالے سے سمری بھی بلدیات کے وزیر مینا خان آفریدی کو منظوری کے لیے ارسال کی جا چکی ہے، جس کے بعد اسے وزیر اعلیٰ کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترامیم میں نہ صرف ضلعی سطح کی بحالی شامل ہے بلکہ ویلج اور نیبرہڈ کونسلز کی آبادی کی حد بڑھانے کی بھی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت ویلج کونسل کی آبادی 5 ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 25 ہزار سے بڑھا کر 35 ہزار کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
تاہم ضلعی سطح کے اختیارات اور دائرہ کار کے حوالے سے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ یہ بھی واضح نہیں کہ کون سے محکمے ضلعی سطح کے تحت آئیں گے یا صوبائی حکومت کے پاس رہیں گے۔
یاد رہے کہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ دسمبر 2021 میں جبکہ دوسرا مرحلہ مئی 2022 میں مکمل ہوا تھا۔ پہلے مرحلے کے منتخب نمائندوں کی مدت 15 مارچ 2026 کو ختم ہو چکی ہے جبکہ دوسرے مرحلے کے نمائندوں کی مدت 30 جون 2026 کو مکمل ہوگی۔
دوسری جانب لوکل کونسل ایسوسی ایشن کے صدر حمایت اللہ مایار نے مجوزہ ترامیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ضلعی نمائندوں کو صرف نگرانی اور سپروائزری کردار دیا گیا تو یہ آئین کے آرٹیکل 140-A کی خلاف ورزی ہوگی، جس کے تحت مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضلعی سطح کی بحالی کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتوں کو ترقیاتی فنڈز میں حصہ بھی 20 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کیا جائے تاکہ بلدیاتی نظام مؤثر انداز میں کام کر سکے۔