میئر کی جانب سے کراچی کے پانی و سیوریج نظام کیلئے ’لاہور ماڈل‘ اپنانے پر غور
کراچی: کراچی کے پانی کی فراہمی اور سیوریج سسٹم پر بڑھتی ہوئی تنقید کے درمیان میئر مرتضیٰ وہاب نے بدھ کو لاہور کے تجربات سے سیکھنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے شہر کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے جدید اصلاحات اور ادارہ جاتی تعاون پر زور دیا۔
میئر نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کرتے ہوئے لاہور میں واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا جہاں پنجاب کے وزیر برائے ہاؤسنگ بلال یاسین، وسا کے چیئرمین چوہدری شیر علی خان، وائس چیئرمین چوہدری شہباز احمد اور منیجنگ ڈائریکٹر غفران احمد نے ان کا استقبال کیا۔
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق حکام نے وسا کے آپریشنل ماڈل، ٹیکنالوجی انضمام اور سروس ڈلیوری میکانزم کا جائزہ پیش کیا۔ مرتضیٰ وہاب نے کراچی کے پانی اور نکاسی آب کے مسائل کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے دیگر بڑے شہری مراکز سے بہترین طریقے اپنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
بیان کے مطابق میئر وہاب نے کہا کہ کراچی لاہور کے کامیاب ماڈلز اور تجربات سے سیکھ کر اپنے پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام کو مزید بہتر بنا سکتا ہے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بنیادی ڈھانچے اور گورننس کے معاملے میں کراچی اور لاہور کے موازنے پر اعتراض کیا اور بتایا کہ دونوں صوبائی دارالحکومتوں کے زمینی حقائق مختلف ہیں۔ اس موقع پر ایک صحافی نے مرتضیٰ وہاب سے پوچھا کہ پیپلز پارٹی برسوں سے سندھ میں حکومت کرنے کے باوجود عوام کی مطلوبہ چیزیں کیوں فراہم نہیں کر سکی۔
دورے کے دوران کراچی وفد کو لاہور کے پانی کی فراہمی اور سیوریج سسٹم کے اہم پہلوؤں بشمول ریونیو کلیکشن، انفراسٹرکچر مینجمنٹ اور جدید مانیٹرنگ ٹیکنالوجیز کے استعمال پر بریفنگ دی گئی۔