بہاولنگر میں نصب کئے گئے واٹر فلٹر پلانٹس غیرفعال، شہری پینے کے صاف پانی سے محروم

بہاولنگر (نمائندہ خصوصی): بہاولنگر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے مختلف ادوار میں قائم کیے گئے متعدد واٹر فلٹر پلانٹس غیرفعال ہونے کے باعث شہری آج بھی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے اور بند فلٹر پلانٹس کو فعال بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کے عہدیدار میاں مشتاق احمد جوئیہ نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندوں کی جانب سے مختلف علاقوں میں واٹر فلٹر پلانٹس تو نصب کیے گئے، تاہم ان میں سے بیشتر منصوبے فعال نہیں ہیں اور عوام کو ان سے کوئی عملی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔

انہوں نے بتایا کہ جودھیانہ بستی میں قائم فلٹر پلانٹ مبینہ طور پر نصب ہونے کے بعد ایک دن بھی مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکا، جبکہ فیصل کالونی اور ریگڑہ بستی کے فلٹر پلانٹس بھی طویل عرصے سے بند پڑے ہیں۔

اسی طرح چشتیاں روڈ وکلا کالونی میں قائم فلٹر پلانٹ میں پانی کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ جیل روڈ پر واقع فلٹر پلانٹ مکمل طور پر غیرفعال ہے۔ ماڈل ٹاؤن کا فلٹر پلانٹ بھی خستہ حالی اور ناقص دیکھ بھال کا شکار بتایا جاتا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ واٹر فلٹر پلانٹس پر سرکاری وسائل خرچ کیے گئے، لیکن مناسب نگرانی اور دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث یہ منصوبے اپنی افادیت کھو چکے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ گرمی کے موسم میں صاف پانی کی عدم دستیابی نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

سماجی رہنماؤں نے ڈپٹی کمشنر بہاولنگر سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام غیر فعال فلٹر پلانٹس کا فوری سروے کروا کر انہیں فعال بنایا جائے تاکہ شہریوں کو صاف اور محفوظ پینے کا پانی فراہم کیا جا سکے۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ منتخب عوامی نمائندوں کو بھی اس اہم مسئلے پر توجہ دینی چاہیے اور ترقیاتی منصوبوں کی صرف افتتاحی تقریبات تک محدود رہنے کے بجائے ان کی مسلسل نگرانی اور مؤثر آپریشن کو یقینی بنانا چاہیے۔

مقامی افراد کے مطابق صاف پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو اس بنیادی سہولت کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کریں۔

متعلقہ خبریں