خیبر: تیراہ سے بے گھر افراد کی آمد، ڈوگرہ سول ہسپتال پر مریضوں کا غیر معمولی دباؤ

خیبر (مانیٹرنگ ڈیسک): ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں واقع ڈوگرہ سول ہسپتال تیراہ سے ہزاروں بے گھر افراد (آئی ڈی پیز) کی آمد کے بعد شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔ مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کے باعث ہسپتال کے محدود وسائل، طبی عملے اور سہولیات پر بوجھ بڑھ گیا ہے، جس سے علاج معالجے کا نظام متاثر ہونے لگا ہے۔

ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی آمد کے بعد روزانہ آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں مریضوں کی تعداد 600 سے 700 کے بجائے بڑھ کر ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ لیبارٹری میں روزانہ ہونے والے ٹیسٹوں کی تعداد بھی 500 سے 600 سے بڑھ کر تقریباً 1,200 تک پہنچ گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق آپریشن تھیٹر، شعبہ امراضِ نسواں، ایکسرے یونٹ اور دیگر شعبے پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہے تھے، تاہم نئے مریضوں کی بڑی تعداد نے صورتحال مزید مشکل بنا دی ہے۔

ڈوگرہ ہسپتال نہ صرف باڑہ اور تیراہ بلکہ ضلع اورکزئی اور پشاور کے ملحقہ علاقوں سنگو، شیخان، مشو خیل اور سربند کے مریضوں کو بھی طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے، جس کے باعث ہسپتال پر مسلسل دباؤ برقرار ہے۔

سماجی رہنما تراب علی نے کہا کہ جدید تشخیصی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں مریضوں کو پشاور کے ہسپتالوں میں ریفر کرنا پڑتا ہے، جس سے پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار بے گھر خاندانوں پر اضافی اخراجات کا بوجھ پڑ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تیراہ سے آنے والے متعدد افراد کمپیوٹرائزڈ او پی ڈی سلپ حاصل کرنے کے طریقہ کار سے بھی واقف نہیں، جس کے باعث انہیں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ڈوگرہ سول ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عالمگیر نے کہا کہ ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملے کی پوری ٹیم محدود وسائل کے باوجود مریضوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم اضافی مریضوں کے باعث عملہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت ٹائپ ڈی ہسپتال تقریباً چھ لاکھ افراد کی طبی ضروریات پوری کر رہا ہے، جبکہ ہسپتال کو موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر ٹائپ سی میں اپ گریڈ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

ضلعی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق دور دراز علاقوں میں قائم 64 بنیادی مراکز صحت میں سے کم از کم سات مکمل طور پر بند ہیں جبکہ تین مراکز محدود سہولیات کے ساتھ فعال ہیں، جس کے باعث زیادہ تر مریض ڈوگرہ سول ہسپتال کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔

سابق چیئرمین ویلج کونسل جاوید خان آفریدی نے مطالبہ کیا کہ بند مراکز صحت کو فوری فعال کیا جائے اور ڈوگرہ ہسپتال میں مزید ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے کی تعیناتی عمل میں لائی جائے تاکہ باڑہ اور تیراہ کے عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

ادھر باڑہ سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی اور خیبر ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ ایڈوائزری کمیٹی کے چیئرمین عبدالغنی نے کہا کہ ڈوگرہ سول ہسپتال کو ٹائپ سی میں اپ گریڈ کرنے کی منظوری، فزیبلٹی اسٹڈی اور پی سی ون کی تکمیل کے بعد باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جا چکا ہے۔

متعلقہ خبریں