ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کی خدمات کے اعتراف میں انڈس ہسپتال میں سینٹر آف ایکسیلنس قائم کرنے کا اعلان
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک): انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک (IHHN) نے معروف ماہر امراضِ متعدیہ مرحومہ ڈاکٹر نسیم صلاح الدینکی غیر معمولی طبی خدمات کے اعتراف میں "ڈاکٹر نسیم صلاح الدین سینٹر آف ایکسیلنس فار انفیکشس ڈیزیزز” قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ڈاکٹر نسیم صلاح الدین گزشتہ ہفتے مراکش میں ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئی تھیں۔ انہیں عیدالاضحیٰ کے پہلے روز کراچی کے ڈی ایچ اے فیز 8 قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
جمعہ کے روز انڈس ہسپتال میں ان کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک بھر سے معروف طبی ماہرین، سماجی شخصیات، اساتذہ، طلبہ اور ان کے ساتھیوں نے شرکت کی اور مرحومہ کی گراں قدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر نسیم صلاح الدین نہ صرف ایک ممتاز معالج تھیں بلکہ ایک ایسا ادارہ تھیں جنہوں نے اپنی علمی قابلیت، اخلاقی قیادت اور انتھک محنت سے ڈاکٹروں کی کئی نسلوں کی تربیت کی۔ انہوں نے خاص طور پر ریبیز (کتے کے کاٹنے سے ہونے والی بیماری) اور تپِ دق (ٹی بی) کی تشخیص، علاج اور روک تھام کے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کیا اور بے شمار انسانی جانیں بچائیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے بھی صحت عامہ کے متعدد منصوبوں میں ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کی مہارت اور رہنمائی سے بھرپور استفادہ کیا، جبکہ طبی شعبے میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
اس موقع پر انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سید ظفر زیدی نے کہا کہ ڈاکٹر نسیم صلاح الدین نے کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور اپنی پیشہ ورانہ دیانت داری، جذبۂ خدمت اور عزم کے باعث وہ طبی دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتی تھیں۔
انڈس ہسپتال کے صدر ڈاکٹر عبدالباری خان نے کہا کہ مرحومہ نے اپنی پوری زندگی انسانیت کی بے لوث خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ریبیز کے خلاف ان کی جدوجہد ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور ادارہ ان کے مشن کو آگے بڑھاتا رہے گا۔
تعزیتی تقریب کے دوران انڈس ہسپتال کے چیئرمین عبدالکریم پراچہ نے ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کی یاد میں "ڈاکٹر نسیم صلاح الدین سینٹر آف ایکسیلنس فار انفیکشس ڈیزیزز” کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ مرکز متعدی امراض کی تشخیص، علاج، تحقیق، تربیت اور پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرے گا اور مرحومہ کے وژن کو آگے بڑھائے گا۔
شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگرچہ پاکستان ایک عظیم معالج، استاد اور رہنما سے محروم ہو گیا ہے، تاہم ان کی خدمات، قائم کردہ روایات، مضبوط کیے گئے ادارے اور تربیت یافتہ ہزاروں ڈاکٹر ان کی میراث کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔
تقریب کے اختتام پر مرحومہ کے درجات کی بلندی، مغفرت اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے خصوصی دعا کی گئی۔