سندھ میں چار ماہ کے دوران 85 ہزار سے زائد کتے کے کاٹنے کے واقعات، حکومت کا صوبہ بھر میں ریبیز کنٹرول مہم شروع کرنے کا اعلان

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک): حکومت سندھ نے صوبے میں ریبیز (کتے کے کاٹنے سے ہونے والی بیماری) کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر جامع انسدادِ ریبیز مہم شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں اینٹی ریبیز ویکسین اور ریبیز امیونوگلوبیولن (RIG) کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے گی تاکہ اس قابلِ علاج بیماری سے ہونے والی اموات کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریبیز ایک ایسی بیماری ہے جس سے بروقت علاج اور آگاہی کے ذریعے مکمل طور پر بچا جا سکتا ہے، اس لیے کسی شہری کی جان ویکسین یا علاج کی کمی کے باعث ضائع نہیں ہونی چاہیے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 2025 کے دوران سندھ بھر میں کتے کے کاٹنے کے 2 لاکھ 85 ہزار سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ بڑے سرکاری اسپتالوں میں ریبیز سے 22 سے زائد اموات ریکارڈ کی گئیں۔ رواں سال جنوری سے اپریل 2026 تک مزید 85 ہزار 891 افراد کتے کے کاٹنے کا شکار ہو چکے ہیں، جس سے صورتحال کی سنگینی واضح ہوتی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت صحت، بلدیاتی اداروں، ریسکیو سروسز، میڈیا اور سماجی تنظیموں کے اشتراک سے ریبیز کے خلاف مربوط حکمت عملی پر عمل کرے گی۔ انہوں نے بلدیاتی اداروں کو ہدایت کی کہ آوارہ کتوں کی آبادی کو کم کرنے کے لیے سائنسی، انسانی اور پائیدار اقدامات کیے جائیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ 2022 میں شروع کیے گئے سندھ ریبیز کنٹرول پروگرام کے تحت صوبے کے 20 اضلاع میں آوارہ کتوں کی نس بندی (Neutering & Spaying) اور ویکسینیشن کا عمل جاری ہے۔ اب تک 25 ہزار 500 سے زائد کتوں کی نس بندی جبکہ 36 ہزار 900 سے زائد کتوں کو ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جا چکی ہے۔

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے بتایا کہ کراچی، مٹیاری، دادو اور ٹنڈو الہ یار سمیت مختلف اضلاع میں قائم مراکز کے علاوہ جلد ہی حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، جامشورو، خیرپور، میرپورخاص، عمرکوٹ اور دیگر اضلاع میں مزید 11 ریبیز کنٹرول مراکز فعال کیے جائیں گے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ سندھ بھر میں 278 عالمی ادارہ صحت (WHO) کے معیار کے مطابق ریبیز پریوینشن یونٹس اور 112 ریفرل سینٹرز قائم کیے جا چکے ہیں، جہاں اینٹی ریبیز ویکسین اور ریبیز امیونوگلوبیولن چوبیس گھنٹے دستیاب ہے۔ پروگرام کے تحت اب تک 63 ہزار سے زائد مریضوں کو ویکسین جبکہ 8 ہزار 700 سے زائد مریضوں کو RIG علاج فراہم کیا جا چکا ہے۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام ریفرل سینٹرز کو مکمل طور پر فعال رکھا جائے اور کسی بھی مریض کو ادویات، عملے یا سہولیات کی کمی کے باعث علاج سے محروم نہ رکھا جائے۔ انہوں نے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور ریسکیو 1122 اہلکاروں کی تربیت کو بھی مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ عوامی آگاہی کے لیے ٹی وی، اخبارات، سوشل میڈیا، تعلیمی اداروں اور کمیونٹی پروگراموں کے ذریعے سات روزہ خصوصی مہم شروع کی جا رہی ہے، جس میں کتے کے کاٹنے کے بعد فوری طبی امداد، احتیاطی تدابیر اور بروقت علاج سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں گی۔

وزیراعلیٰ نے ڈیجیٹل اینٹی ریبیز ویکسین (ARV) مریض ٹریکنگ سسٹم کے قیام کو بھی سراہا، جس کے ذریعے کتے کے کاٹنے کے واقعات، ویکسینیشن اور فالو اپ علاج کی صوبہ بھر میں مؤثر نگرانی ممکن ہوگی۔

اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ نے حال ہی میں ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والی ممتاز ماہرِ امراضِ متعدیہ ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ریبیز سے پاک بنانے کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور حکومت ان کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔

متعلقہ خبریں