غیر رجسٹرڈ کلینکس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ، خیبرپختونخوا میں ہر سال 4 سے 6 ہزار خواتین زچگی کی پیچیدگی "فسٹولا” کا شکار
پشاور: طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ہر سال تقریباً 4,000 سے 6,000 خواتین زچگی کے دوران ہونے والی سنگین پیچیدگی آبسٹیٹرک فسٹولا (Obstetric Fistula) کا شکار ہو رہی ہیں، جس کی بڑی وجوہات غیر محفوظ زچگی، غیر تربیت یافتہ دائیوں کے ذریعے ڈلیوری اور غیر رجسٹرڈ عطائی کلینکس کا بڑھتا ہوا رجحان ہیں۔
یہ بات "فسٹولا اور زچگی کی چوٹ” کے موضوع پر پشاور پریس کلب میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کہی، جو فسٹولا کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان نیشنل فورم فار ویمنز ہیلتھ کے زیر اہتمام منعقد ہوا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر سمدانہ وہاب نے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً 20 لاکھ خواتین فسٹولا کے مرض کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بیماری زیادہ تر طویل یا غیر محفوظ زچگی کے باعث پیدا ہوتی ہے اور متاثرہ خواتین میں تقریباً 90 فیصد بچوں کی پیدائش مردہ ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فسٹولا اب ناقابل علاج مرض نہیں رہا اور پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور مرسی ٹیچنگ ہسپتال میں اس کا علاج اور سرجری کی سہولت دستیاب ہے، تاہم آگاہی کی کمی کے باعث ہزاروں خواتین بروقت علاج سے محروم رہتی ہیں۔
اسسٹنٹ پروفیسر نازش حیات نے کہا کہ غربت، شعور کی کمی، دور دراز علاقوں میں معیاری طبی سہولیات کی عدم دستیابی اور زچگی کے دوران بروقت طبی امداد نہ ملنا فسٹولا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی بڑی وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خواتین اکثر سماجی تنہائی اور امتیازی سلوک کا بھی شکار ہوتی ہیں۔
پروفیسر عذرا غنی نے فسٹولا کے بڑھتے ہوئے کیسز کا ذمہ دار غیر رجسٹرڈ عطائی کلینکس اور غیر محفوظ ڈلیوری کے طریقوں کو قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی کلینکس کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک عطائیت کا خاتمہ نہیں ہوگا، خواتین خصوصاً قبائلی اور دیہی علاقوں کی رہائشی خواتین سنگین خطرات سے دوچار رہیں گی۔ انہوں نے لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دائیوں کی بہتر تربیت، اسپتالوں کی مؤثر نگرانی اور زچہ و بچہ کی خصوصی طبی سہولیات میں سرمایہ کاری پر زور دیا۔
ماہرین نے بتایا کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں فسٹولا کے مریضوں کے لیے خصوصی آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (OPD) بھی قائم کیا جا رہا ہے تاکہ متاثرہ خواتین کو مستقل علاج اور بحالی کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
سیمینار کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر حکومت، طبی ادارے اور سماجی تنظیمیں مشترکہ طور پر مؤثر اقدامات کریں، محفوظ زچگی کو فروغ دیں اور عطائیت کے خلاف سخت کارروائی کریں تو 2030 تک فسٹولا کے خاتمے کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔