جائیداد کے تنازعات میں اینٹی کرپشن کے اختیارات چیلنج، لاہور ہائیکورٹ نے جواب طلب کر لیا

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے جائیداد کی منتقلی (میوٹیشن) سے متعلق تنازعات میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ACE) کے اختیارات کو چیلنج کرنے والی درخواست پر اینٹی کرپشن حکام سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 مئی تک جواب طلب کر لیا ہے۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے شہری شاہد محمود گجر کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل میاں داؤد نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت عالیہ کے متعدد فیصلوں میں واضح کیا جا چکا ہے کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو جائیداد کی میوٹیشن سے متعلق سول نوعیت کے تنازعات میں مداخلت کا اختیار حاصل نہیں، اس کے باوجود درخواست گزار کے خلاف انکوائری شروع کر دی گئی۔

درخواست میں کہا گیا کہ مخالف فریق ریونیو حکام اور عدالتوں سے مقدمات ہارنے کے بعد اب اینٹی کرپشن کے ذریعے دباؤ ڈال کر اراضی پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ فروغ آباد میں واقع 14 کنال اراضی کے معاملے پر ان کے آباؤ اجداد سپریم کورٹ تک قانونی جنگ جیت چکے ہیں، لیکن اب مبینہ طور پر اینٹی کرپشن حکام کی ملی بھگت سے انہیں اراضی سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ دو برس سے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو بعض حلقوں کی جانب سے شہریوں پر دباؤ ڈال کر جائیداد فروخت کروانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ اینٹی کرپشن پنجاب کی جاری انکوائری کو غیر قانونی، غیر آئینی اور دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے۔

عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرنے کے ساتھ متعلقہ انکوائری افسر کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کر لیا ہے۔

متعلقہ خبریں