لاڑکانہ کا چانڈکا اسپتال فنانس ڈائریکٹر کی عدم تعیناتی کے باعث انتظامی بحران کا شکار
یونیورسٹی کے سلیکشن بورڈ نے انٹرویوز کے بعد تین نام حتمی تقرری کے لئے وزیراعلیٰ سندھ کو بھجوائے تھےاور معاملہ تاحال زیرِ فیصلہ ہے۔
لاڑکانہ: لاڑکانہ کے 1,550 بستروں پر مشتمل چانڈکا میڈیکل کالج اسپتال کمپلیکس میں فنانس ڈائریکٹر کی عدم موجودگی کے باعث انتظامی امور اور متعدد طبی سہولیات شدید متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ ہزاروں مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
فنانس ڈائریکٹر کاظم بھٹو کی تین سالہ مدت 17 جولائی کو مکمل ہونے کے بعد سے یہ عہدہ خالی ہے اور تاحال نئے فنانس ڈائریکٹر کی تعیناتی نہیں ہو سکی۔ ذرائع کے مطابق کسی دوسرے انتظامی افسر کو فنانس ڈائریکٹر کے ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ اختیارات حاصل نہیں، جس کے باعث اسپتال کمپلیکس کے روزمرہ اخراجات اور مالی معاملات تعطل کا شکار ہیں۔
چانڈکا میڈیکل کالج اسپتال، شیخ زاید اسپتال برائے خواتین، سی ایم سی چلڈرن اسپتال، سی ایم سی ٹیچنگ اسپتال اور کیژولٹی سمیت مختلف شعبے لاڑکانہ ڈویژن اور دیگر علاقوں سے آنے والے ہزاروں مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔
چانڈکا میڈیکل کالج اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر امجد بجارانی، جو کمپلیکس کی بیشتر طبی سہولیات کے منتظم ہیں، کے پاس بھی ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ اختیارات نہیں ہیں۔
ایک پروفیسر شعبہ آرتھوپیڈکس کے مطابق صورتحال اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ پیتھالوجی لیبارٹری میں خون کے ٹیسٹ تک نہیں ہو رہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرجری کے منتظر مریضوں یا ان کے تیمارداروں کو ضروری اشیا باہر سے خریدنے کا کہا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسپتال اسٹور کو ادویات اور دیگر ضروری سامان کے لیے بھیجے گئے انڈینٹس میں اکثر مطلوبہ اشیا دستیاب نہیں ہوتیں، جبکہ اسٹور عملہ عدم دستیابی کی نشاندہی کرنے سے بھی گریز کرتا ہے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے پیتھالوجی لیبارٹری میں معمول کے ٹیسٹ نہیں ہو رہے، حتیٰ کہ پیشاب کے ٹیسٹ کی سہولت بھی متاثر ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کمپلیکس کی پانچوں پیتھالوجی لیبارٹریوں میں صورتحال تقریباً یکساں ہے۔
ایکس رے شعبہ بھی ایکسرے پلیٹس کی کمی کا شکار ہے، جبکہ میڈیکو لیگل ایکسرے اسپتال سے باہر کروائے جا رہے ہیں۔
میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر امجد بجارانی نے صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اعلیٰ حکام کو صورت حال سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور امید ہے کہ مالیاتی ڈائریکٹر کی تعیناتی بہت جلد عمل میں آئے گی۔
انہوں نے بتایا کہ چانڈکا اسپتال کا ایم آر آئی سیکشن 2016 سے غیر فعال ہے۔
ذرائع کے مطابق انتظامیہ فی الحال بعض ضروری اشیا کی خریداری مقامی سطح پر کر رہی ہے، تاہم اس حوالے سے بھی خدشات موجود ہیں کہ نئے فنانس ڈائریکٹر نے ان اخراجات کی منظوری نہ دی تو ان ادائیگیوں کا ذمہ دار کون ہوگا۔
شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کی وائس چانسلر اور اسپتال مینجمنٹ کمیٹی کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نصرت شاہ نے کہا کہ کمیٹی کو فنانس ڈائریکٹر مقرر کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ یونیورسٹی کے سلیکشن بورڈ نے سرچ کمیٹی کے طرز پر انٹرویوز کے بعد تین نام وزیراعلیٰ کو بھجوائے تھے، تاہم حتمی تقرری وزیراعلیٰ کا اختیار ہے اور معاملہ تاحال زیرِ فیصلہ ہے۔
پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن، چانڈکا میڈیکل کالج اسپتال کے سابق جنرل سیکریٹری منور منگی نے بتایا کہ ریٹائر ہونے والے ملازمین کے پنشن کیسز بھی مالیاتی ڈائریکٹر کے دستخط کے منتظر ہیں۔
ان کے مطابق تقریباً 100 ریٹائرمنٹ اور ڈیتھ کلیم کیسز کارروائی کے منتظر ہیں۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر فضل قادر کھوسو نے ویڈیو پیغام میں صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ سے متعلق معاملات رک گئے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ، وزیر صحت اور سیکریٹری صحت سے مطالبہ کیا کہ فنانس ڈائریکٹر کی خالی اسامی فوری طور پر پُر کی جائے۔
لاڑکانہ پی ایم اے کے صدر منتخب پروفیسر ڈاکٹر سکندر مغل نے کہا کہ اصولی طور پر ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ اختیارات میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے پاس ہونے چاہئیں تاکہ ایسی صورتحال پیدا نہ ہو۔ انہوں نے حکومت سے غیر طبی پیشہ ور افراد کو فنانس ڈائریکٹر مقرر کرنے کا سلسلہ ختم کرنے کی بھی تجویز دی۔