جنوبی پنجاب کے کاشتکاروں کے لیے فصلوں کے مطابق موسمیاتی مشاورتی نظام متعارف کرانے کا منصوبہ
لاہور: اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے اور زرعی شعبے کو زیادہ مضبوط بنانے کے لیے پنجاب اور سندھ میں موسمیاتی لچکدار زراعت اور بہتر آبی انتظام کے منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے، جس کے تحت جنوبی پنجاب کے کپاس اور چاول کے کاشتکاروں کو فصلوں کے مخصوص مراحل کے مطابق موسمیاتی مشورے فراہم کیے جائیں گے۔
یہ منصوبہ "Transforming the Indus Basin with Climate Resilient Agriculture and Water Management” کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، جسے گرین کلائمیٹ فنڈ (GCF) کی مالی معاونت اور پنجاب و سندھ حکومتوں کے تعاون سے مکمل کیا جا رہا ہے۔
منصوبے کا مقصد سندھ طاس کے کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے کسانوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت بڑھانا، زرعی پیداوار میں بہتری لانا اور ادارہ جاتی استعداد کو مضبوط کرنا ہے۔ گرین کلائمیٹ فنڈ کے مطابق اس منصوبے سے تقریباً 13 لاکھ افراد براہِ راست جبکہ ایک کروڑ 60 لاکھ افراد بالواسطہ مستفید ہوں گے۔
ایف اے او نے پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (PMD) کے تعاون سے منصوبے کے علاقوں میں 24 خودکار موسمیاتی اسٹیشنز نصب کیے ہیں، جن میں 15 پنجاب اور 9 سندھ میں شامل ہیں۔ ان اسٹیشنز کی مدد سے فصلوں کے لیے اثرات پر مبنی موسمیاتی پیشگوئی (Impact-Based Forecasting) تیار کی جا رہی ہے۔
ملتان میں منعقدہ دو روزہ ورکشاپ میں کپاس اور چاول کی خریف فصلوں کے لیے موسمیاتی مشاورتی نظام کو حتمی شکل دینے پر غور کیا گیا۔ ورکشاپ میں ایف اے او، محکمہ موسمیات، محکمہ آن فارم واٹر مینجمنٹ، محکمہ زراعت توسیع، زرعی تحقیقاتی اداروں، سول سوسائٹی، ماہرین تعلیم اور پانچ اضلاع کے کسان نمائندوں نے شرکت کی۔
ورکشاپ کا مقصد موسمیاتی معلومات کو کسانوں کے لیے قابلِ عمل اور فصل کے مطابق مشوروں میں تبدیل کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تشکیل دینا تھا۔ اجلاس میں کپاس اور چاول کی فصلوں کو درپیش تین بڑے موسمی خطرات، جن میں شدید بارشیں، پانی کی کمی اور شدید درجہ حرارت شامل ہیں، کے لیے مرحلہ وار حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایف اے او پنجاب کی سربراہ ایمیلڈا بیریجینا نے کہا کہ موسمیاتی معلومات کو کسانوں کے عملی اقدامات میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف اے او صوبائی اداروں اور تکنیکی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسے مشورے تیار کر رہا ہے جو بروقت، مقامی حالات سے ہم آہنگ اور کسانوں کے لیے آسانی سے قابلِ استعمال ہوں۔
پاکستان محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر ظہیرالدین بابر نے کہا کہ اثرات پر مبنی پیشگوئی کا مقصد صرف موسم بتانا نہیں بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ موسم فصلوں اور کسانوں پر کیا اثر ڈال سکتا ہے۔
محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر کراپ رپورٹنگ سروس ڈاکٹر محمد منیر نے کہا کہ ایف اے او کے منصوبے کے تحت موسمیاتی لچکدار زرعی طریقوں سے کم وسائل استعمال کرتے ہوئے پیداوار میں نمایاں بہتری کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔