311 آوازوں کی رہائی ! ۔۔۔ تحریر: نعیم ثاقب
کبھی آپ نے اس ہولناک خامو شی کا تصور کیا ہے جو ہنستے بستے گھروں میں شدید درد کی گہری اذیت کی طرح محسوس ہوتی ہے سوچیں وہ لمحہ کتنا کربناک ہوتا ہے جب ایک ماں اپنے جگر گوشے کو پہلی بار گود میں لیتی ہے، اس کے ماتھے کو چومتی ہے اور اپنی مامتا کی تمام تر چاشنی اپنی آواز میں بھر کر اسے پکارتی ہے، لیکن بدلے میں وہ معصوم لختِ جگر اسے ایک خالی اور بے جان نظر سے تکتا رہتا ہے۔ وہ بچہ مسکراتا تو ہے، مگر اسے ماں کی لوری کا لمس محسوس نہیں ہوتا؛ وہ روتا تو ہے، مگر اپنی ہی سسکیوں کی آواز سے بے خبر رہتا ہے۔ سماعت سے محرومی صرف کانوں کا کوئی طبی نقص نہیں ہے، یہ ایک جیتے جاگتے انسان کا لفظوں کے رنگوں سے محروم ہو کر پتھر کے بت میں ڈھل جانا ہے۔ یہ وہ بے رحم قیدِ تنہائی ہے جہاں کوئی دیوار تو نظر نہیں آتی،پر کائنات کا کوئی ساز، کوئی لفظ اور کوئی دعا اس قید خانے کی سرحد عبور کر کے اندر نہیں جا سکتی۔
لیکن معجزے یونہی نہیں ہوتے، ان کے پیچھے کوئی تڑپنے والا دل ، مخلصانہ اور پختہ عزم کارفرما ہوتا ہے۔ اولیاء کی دھرتی ملتان سے گزشتہ دنوں ایک ایسی خبر ملی جس نے انسانیت پر یقین رکھنے والوں کے دلوں میں زندگی کی ایک نئی لہر دوڑا دی ہے۔ ملتان ڈویژن میں شروع ہونے والا پراجیکٹ "ساؤنڈ فار دی سٹوڈنٹس” محض ایک سرکاری اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ "خاموشی سے آواز تک” کے سفر کی وہ داستان ہے جو برسوں یاد رکھی جائے گی۔ اس انقلابی پراجیکٹ کی وجہ ایک اتفاقیہ ملاقات بنی ۔ کمشنر ملتان، عامر کریم خاں ایک عوامی تقریب میں موجود تھے جب ایک دردِ دل رکھنے والے شہری نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے نہایت بے بسی سے کہا: "عامرصاحب! آپ رفاہِ عامہ کے بہت کام کرتے ہیں، بڑی سڑکیں ، پارکس اور عمارتیں بناتے ہیں، ذرا ان معصوموں پر بھی توجہ دیں جو سن نہیں سکتے۔ ان کی دنیا میں کوئی آواز نہیں، اور اسی لیے وہ بولنے کی قوت سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔”
یہ محض ایک مشورہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی چنگاری تھی جس نے ایک حساس بیوروکریٹ کے اندر احساس کی آگ جلا دی۔ عامر کریم خاں نے اس پکار کو سرکاری فائلوں کی گرد میں دبانے کے بجائے اسے اپنا مشن بنا لیا۔ انہوں نے فوری طور پر ملتان، خانیوال، لودھراں اور وہاڑی کے ڈپٹی کمشنرز کو متحرک کیا۔ سکولز سے ڈیٹا اکٹھا کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ڈویژن میں 3,030 ایسے طلبہ ہیں جو سماعت کی محرومی کا شکار ہیں۔ ماہرینِ طب پر مشتمل میڈیکل بورڈز تشکیل دیے گئے جنہوں نے دن رات ایک کر کے 320 ایسے بچوں کا انتخاب کیا جن کی عمریں 4سے 14 سال کے درمیان تھیں اور جن کے بارے میں ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اگر انہیں جدید "ہیرنگ ایڈ” مل جائے تو یہ نہ صرف کائنات کی آوازیں سن سکیں گے بلکہ اسپیچ تھراپی کے ذریعے بولنا بھی سیکھ جائیں گے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ جو سنتا ہے وہی بول سکتا ہے ۔
مگر راستہ کٹھن تھا؛ ایک معیاری اور پائیدار آلے کی قیمت تقریباً پچھتر ہزار اور دونوں کانوں کے لیے تقریبا” ڈیڑھ لاکھ روپے کا خرچہ تھا ۔ ریاست کے پاس شاید ایسے کاموں کے لیے فوری بجٹ نہیں ہوتا، سرکاری بجٹ کی حدود ختم ہوتی ہیں، لیکن اگر افسران عامر کریم خاں کی طرح "خلوص ” کا بجٹ اور خدمت کا جذبہ استعمال کریں تو اللہ عیب سے اسباب پیدا کرتا ہے ۔ کمشنر ملتان نے معاشرے کے متمول طبقے اور بڑے اداروں کے سامنے ان بچوں کا مقدمہ رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ڈیڑھ لاکھ روپے کے آلات نہیں، بلکہ ایک بچے کی پوری زندگی کی قیمت ہے۔ مخیر حضرات نے لبیک کہا اور دیکھتے ہی دیکھتے کروڑوں روپے کے فنڈز جمع ہو گئے، جس کے نتیجے میں پہلے مرحلے میں 311 بچوں کو سماعت کے جدید آلات فراہم کر دیے گئے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف صاحبہ! آپ خود ایک ماں ہیں اور ایک حساس دل رکھتی ہیں۔ آپ کا ویژن "تعلیم سب کے لیے” یقیناً قابلِ ستائش ہے، لیکن ملتان کا یہ ” ساونڈ فار سٹوڈنٹس ماڈل” آپ کےویژن کی وہ اصل روح ہے جسے پورے پنجاب میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ ذرا اس منظر کی گہرائی میں اتر کر دیکھیے، جب ایک 5 سالہ ننھی بچی کے کان میں پہلی بار وہ آلہ لگایا گیا ہوگا اور اس نے زندگی میں پہلی بار اپنی ماں کے منہ سے اپنا نام سنا ہوگا۔ اس کی آنکھوں میں پھیلنے والی وہ حیرت، وہ مسکراہٹ اور پھر ماں کے چہرے پر گرنے والے شکرانے کے آنسو—ان کی قیمت دنیا کا کوئی خزانہ ادا نہیں کرسکتا۔
وزیراعلی صاحبہ ! یہ تحریر آپ سے ایک التجا ہے، ایک ایسی فریاد جو ان ہزاروں بچوں کی طرف سے ہے جو ابھی تک پنجاب کے دور دراز دیہاتوں میں خاموشی کے زندان میں قید ہیں۔ تجویز ہے کہ ملتان کے اس پراجیکٹ کی طرز پرمستقل SOP بنا دیا جائے؛ یعنی کسی بھی خصوصی بچے کے اسکول میں داخلے کے وقت ہی تشخیص کے لیے بورڈ موجود ہو۔ معائنہ کو یقینی بنایا جائے اور آلات کی فراہمی دس پندرہ دنوں میں لازمی کر دی جائے ۔ اگر ان 311 بچوں کو آج سے چند سال پہلے یہ آلات مل جاتے تو وہ آج نارمل بچوں کی طرح زندگی کی دوڑ میں شامل ہو چکے ہوتے اور ہو سکتا ہے آج کا یہ سٹوڈنٹ کل کا ٹیچر ، ڈاکٹر ، یا پھر انجینر بن کے اپنے خاندان اور ملک کے کام آ سکتا ۔
میڈم ! ملتان سے اٹھنے والی یہ آواز اب لاہور کے ایوانوں تک پہنچنی چاہیے۔ یہ 311 بچے تو صرف شروعات ہیں، اصل کامیابی اس دن ہوگی جب یہ ماڈل پورے پنجاب کا مقدر بنے گا۔ ان بچوں کی پہلی ہنسی اور ان کے منہ سے نکلنے والا پہلا ٹوٹا پھوٹا لفظ آپ کے ایک حکم کا منتظر ہے۔
سب پاکستانیوں سے بھی اپیل ہے کہ آئیں مل کرخاموشی کی قید میں بند ہر آواز کو ان 311 آوازوں کی طرح رہائی دلانے کوشش کریںُ اور سب معصوموں کو اس قابل بنائیں کہ وہ کل کو پاکستان کا قومی ترانہ خود سن سکیں اور خود گا سکیں۔ یہ صرف آلات کی تقسیم نہیں، یہ ایک پوری نسل کی زندگیوں میں رنگ بھرنے کا عمل ہے! اللہ اس نیک کام میں شامل ہر شخص کو دنیا و آخرت میں اجر دے ۔ آمین