نشتر اسپتال میں ایچ آئی وی اسکریننگ میں غفلت، انکوائری میں 10 ڈاکٹرز اور افسران قصوروار قرار، پنجاب حکومت کی کارروائی

لاہور (خصوصی رپورٹ): نشتر میڈیکل یونیورسٹی و اسپتال ملتان کی انکوائری کمیٹی نے ایک ایسے مریض کی سرجری کے معاملے میں، جس کے بعد ایچ آئی وی مثبت (HIV Positive) ہونے کا انکشاف ہوا، 10 ڈاکٹرز اور اسپتال کے افسران کو غفلت، بدانتظامی اور مقررہ طبی پروٹوکول کی خلاف ورزی کا ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔ پنجاب حکومت نے انکوائری رپورٹ کی روشنی میں متعدد ڈاکٹرز اور طبی عملے کو معطل کرتے ہوئے مزید محکمانہ کارروائی شروع کر دی ہے۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق مریض کی سرجری سے قبل لازمی ایچ آئی وی اسکریننگ کے نتائج بروقت چیک، اپ لوڈ اور متعلقہ شعبوں تک پہنچانے میں سنگین کوتاہیاں کی گئیں، جس کے باعث مریض کا آپریشن مکمل ہونے کے بعد اس کے ایچ آئی وی سے متاثرہ ہونے کی تصدیق ہوئی۔

رپورٹ میں سینئر رجسٹرار ڈاکٹر فریحہ احمد، اسٹاف نرس ردا زہرا، ڈاکٹر شہباز انور، ڈاکٹر محمد علی جان اور ڈاکٹر محمد نعیم اختر کو غفلت اور قواعد کی خلاف ورزی کا ذمہ دار قرار دیا گیا، جس پر پنجاب حکومت نے انہیں فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر ثانیہ سعید، ڈاکٹر عرصہ عارف اور ڈاکٹر اختر کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ بھی معطل کر دی گئی، جبکہ اینستھیزیا اور پیتھالوجی کے مزید دو ڈاکٹرز کے خلاف بھی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

تحقیقات کے مطابق بعض ڈاکٹرز نے لازمی چیک لسٹ مکمل کیے بغیر سرجری کی، جبکہ لیبارٹری اور پیتھالوجی عملے نے ایچ آئی وی رپورٹ بروقت متعلقہ شعبوں تک نہ پہنچائی اور نہ ہی اسے اسپتال کے ڈیجیٹل سسٹم پر وقت پر اپ لوڈ کیا۔ اینستھیزیا ٹیم پر بھی مریض کو آپریشن کے لیے فٹ قرار دینے سے قبل مطلوبہ اسکریننگ رپورٹ کی تصدیق نہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

پنجاب کے وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ مریضوں کے علاج اور حفاظتی پروٹوکول میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔

واضح رہے کہ نشتر اسپتال اس سے قبل بھی ایچ آئی وی سے متعلق ایک بڑے تنازع کا سامنا کر چکا ہے، جب 2024 میں نیفرولوجی اور ڈائیلاسز یونٹ میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے باعث متعدد مریض متاثر ہوئے تھے، جس پر بھی اعلیٰ سطح کی تحقیقات اور انتظامی کارروائیاں کی گئی تھیں۔

متعلقہ خبریں