پروفیسر صغیر تبسم کو “وارث شاہ قومی ادبی ایوارڈ” ملنا ضلع بہاولنگر کیلئے باعث افتخار ہے :ڈاکٹررفاقت علی باجوہ

چشتیاں: ڈائریکٹراسلامیہ یونیورسٹی بہاولنگر کیمپس ڈاکٹررفاقت علی باجوہ نے کہا ہے کہ ضلع بہاول نگرکےعالمی شہرت یافتہ پنجابی شاعرپروفیسر صغیر تبسم اپنی شہرہ آفاق کتاب اردو بولن والئے کڑئے میں ہزاروں سال پرانی پنجابی تہذیبی روایت کو ایک طویل نظم میں محفوظ بنانے کا کارنامہ سرانجام دیا ہے اوراس پنجابی نظم کو پنجابی زبان کی پانچ ہزارسالہ تہذیبی داستان کی بنا پرکبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا جبکہ پروفیسرصغیر تبسم کو اکادمی ادبیات کی جانب سے”وارث شاہ قومی ادبی ایوارڈ” کا ملنا بلاشبہ پورے ضلعے کے لیے باعث افتخار ہے۔انہوں نے اسلامیہ یونی ورسٹی بہاول نگر کیمپس کے نیو سیمینار ہال میں پروفیسر صغیر تبسم کے اعزاز میں منعقدہ تہنیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ پروفیسر صغیر تبسم ملک کے وہ شاعر ہیں جن کے کلام کی گونج پاکستان کے پنجاب کے علاوہ انڈین پنجاب میں بھی گونج رہی ہے۔ انھوں نے پنجابی لوک گیت ، آزاد نظم اورغزل کے ذریعےپنجابی ادب کی گرانقدرخدمات انجام دینے کا فریضہ انجام دیا ہے اوراُن کی شہرہ آفاق نظم ”اردو بولن والیے کڑیے، توں کی جانے“ اپنے کرافٹ، موضوع اور صنف کے حوالےسے انتہائی منفرد مانی جاتی ہے جو اب کتابی شکل میں بھی شائع ہو گئی ہے۔ پروفیسرصغیر تبسم کی اِسی کتاب پر انھیں ”وارث شاہ قومی ادبی ایوارڈ “ سے نوازا گیا۔ تقریب میں ضلع بھر سے بڑی تعداد میں اہلِ فن اور اہلِ فکر و دانش نے شرکت کی۔ تقریب میں ایڈیشنل ڈائریکٹر وقاص بن طارق ، ڈاکٹر اسرار احمد، جناب پروفیسر احمد خان، ڈاکٹر خاور وحید،فاروق ندیم اور ڈاکٹر ناصر کاظمی شامل تھے۔ فاروق ندیم اور پروفیسر احمد خان نے صغیر تبسم کے فن کو سراہا اور اُن کی نگارشات کے مختلف امکانات اور فکری گوشوں کو زیرِ بحث لائے۔ شعبہ اردو و اقبالیات کے زیرِ اہتمام منعقدہ اِس سیمینار کے آخر میں ڈائریکٹرکیمپس نے پروفیسرصغیرتبسم کو اُن کی اِس کامیابی پرایک یادگاری شیلڈ پیش کی اورجملہ مہمانوں کی تشریف آوری پر اُن کا شکریہ ادا کی ۔

متعلقہ خبریں